تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 53
۵۳ سیلاب زدگان میں دواؤں کا کام نہایت تندہی ، جانفشانی اور ایمانداری سے کیا۔اس دوران میں رضا کاران نے شکایت کا کوئی موقع نہ دیا۔قوم کی خدمت کا جذ بہ رضا کاران میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔امید ہے کہ آئندہ بھی نازک حالات میں یہ رضا کاران ملک و ملت کی خدمت سرانجام دیں گے۔خدا انہیں جزا دے " ان امدادی مراکزہ کی سرگرمیاں پورے زوروں پر تھیں کہ یکے بعد دیگرے تین اور پارٹیاں ربوہ سے ضلع شیخو پورہ کے سیلاب زدہ علاقہ میں پہنچ گئیں جنہوں نے نارنگ شاہ مسکین اور مانگٹانوالہ میں تین اور فعّال ریلیف سنٹر کھول دیئے۔نوجوانانِ احمدیت نے پُر خطر اور دشوار گزار راستوں سے ہوتے ہوئے رات کی تاریکیوں میں گہرے پانی کو عبور کیا اور مصیبت زدگان کی امداد کو پہنچ گئے۔۲ نومبر ۱۹۵۵ء کو سردار عبدالحمید صاحب دستی وزیر صحت نارنگ تشریف لائے تو اہلِ نارنگ نے سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے احمدی جوانوں کی خدمات کو بہت سراہا جس کے جواب میں دستی صاحب نے فرمایا کہ میں خدام الاحمدیہ بلکہ مجموعی طور پر اُن پاریوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے سیلاب کے دوران میں بروقت خدمت خلق کا فریضہ انجام دیا ہے۔ان نئے ریلیف کیمپوں کی امدادی سرگرمیوں کے متعلق بطور نمونه چند آراء درج ذیل کی جاتی ہیں : (۱)۔" خدام الاحمدیہ ربوہ کی ایک امدادی پارٹی نے جو کہ ۱۹۵۵ء کے سیلا کے سلسلہ میں چوہدری فضل داد ساحب انچارج ریلیف پارٹی کی قیادت میں کام کرتی رہی ہے ، علاقہ کلر اور نارنگ کے مضافات میں حد درجہ مفید خدمت سرانجام دی ہے۔خدام الاحمدیہ کے یہ نوجوان رضا کار سیلاب زدگان کی امداد کی عرض سے ایک ایک بستی میں ہی نہیں بستی کے ایک ایک دروازہ تک پہنچے اور انہوں نے ستم رسیدہ انسانوں کو بچانے کے لئے اپنی جانوں کی بازی لگا دی۔ان کی خدمات نے علاقہ کو متاثر کیا ہے اور وہ لائق صد تحسین و مبارکباد ہیں کہ وہ حقیقتی مجاہدہ ہیں اور انہوں نے سیلاب زدہ لوگوں کی نہایت مخلصانہ اور بے لوث خدمات کی ہیں۔یکیں اپنی طرف سے اور ریڈ کہ اس سوسائٹی (ہلال احمر ) کی طرف سے خدام الاحمدیہ کے