تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 536
۵۳۶ تبلیغی نوعیت کے ہیں۔تاہم اُن کے علاوہ ہم اسپتال اور سکول بھی قائم کرتے ہیں۔ہماری جماعت کا آغانہ ہندوستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے اٹھارھویں رانیسویں صدی ہونا چاہیے ناقل ) کے اواخر میں ہوا۔تمام دنیا میں ہمارے ممبران کی تعداد دس ملین (ایک کروڑ سے زائد ہے ، پاکستان میں احمدیوں کی تعداد ۳٫۵ (۳۵ لاکھ) کے لگ بھگ ہوگی۔آپ نے اس امر کی وضاحت کی کہ تمام دوسرے مسلمانوں کی طرح ہم بھی حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں۔آپ نے واضح فرمایا ہمارا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے اگر کوئی ایسا سمجھتا ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔حضرت مرزا طاہر احمد ترتیب کے لحاظ سے چوتھے خلیفہ ہیں۔خلیفہ المسیح کا گوٹن برگ کا دورہ اپنے ممبران سے ملاقات کی شکل میں سوموار کی رات کو دبیہ تک جاری رہائیے مشن میڈیسن کی مطبوعات - ڈینیش ترجمه قرآن ، عبدالسلام صاحب بینایی)۔اسلام کی بنیادی تعلیم پمفلٹ (نارویجین) ۳- نماز مترجم (سویڈش) -۴- اسلامی تعلیم کا خاکہ درجناب نسیم سیفی صاحب کی کتاب کا سویڈش ایڈیشن ) سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مصنفہ حضرت مصلح موعود ) - حقوق نسواں مصنفہ چوہدری محمد ظفر اللہ خانصاحب ) - حرف انتباه (حضرت خلیفہ المسیح الثالث)۔(سویڈش اور ڈینیش ترجمہ ) ۸ - سیرت النبی (عبد السلام میڈسین ) 4 A له بحوالہ روزنامه الفضل اور اکتوبر ۹ مت کے۔ایک پاکستانی اہل قلم " ڈنمارک میں السلام “ کے زیر عنوان تحریر فرماتے ہیں :- یہ عبد السّلام میڈین ہیں جن کی راہنمائی اول اول کسی پرانے مسلمان نے نہیں کی بلکہ اسلام نے خود انہیں راستہ دکھا دیا ہے۔اور آج یہ خود پرانے مسلمانوں کی یہ انتہائی کا فریضہ بھی انجام