تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 535
۵۳۵ ضرور غالب آئے گی۔انہوں نے کہا ایک مہذب قوم کی حیثیت سے اہل ڈنمارک کی خوبی اور تہذیب و انسانیت کے فروغ میں ان کے کردار کی اہمیت اس بات میں نہیں ہے کہ وہ احمرمت کو خاطر میں نہ لاکر اس کے خلاف تشدد روا نہیں رکھتے بلکہ ان کے کردار کی عظمت اس امر میں مضمر ہے کہ وہ اپنے دلوں کے دروازے کھول کو احمدیت کے پیغام کی طرف متوجہ ہوں ، اس پر غور کریں۔اور قائل ہونے کی صورت ہیں اسے قبول کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں لیے ( 4 ) - روزنامہ آر بیت ) ARBETET ) نے اپنی اور اگست ۱۹۱۲ء کی اشاعت - میں لکھا :- " گوٹن برگ میں خلیفہ المسیح کی تشریف آوری۔پرسوں گوٹن برگ میں پاکستان سے خلیفہ السیح (حضرت) مرزا طاہر احمد تشریف لائے خلیفہ اسیح ہونے کی حیثیت میں آپ احمدی مسلمانوں کے مذہبی رہنما ہیں۔آپ آجکل سارے یورپ کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اپنی جماعت کے افراد سے ملاقات فرما سکیں۔آپ نے مسجد ناصر ہیں پر یس کا نفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا میں اس سال جون میں خلیقہ منتخب ہوا ہوں اور اس حیثیت میں میرا یہ پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔بعد ازاں میں سپین جاؤں گا جہاں ہماری جماعت نے ایک مسجد تعمیر کی ہے جس کا افتتاح ستمبر میں ہو گا۔قبل اس کے میں سویڈن سے جاؤں مالکو میں اپنی جماعت کے ممبران سے بھی ملاقات کروں گا۔وہاں جماعت کے پچیس افراد رہتے ہیں۔احمدی مسلمان اسلام کا ایک فرقہ ہیں اور گوٹن برگ میں ان کی تعداد ایک سو پچاس افراد پرمشتمل ہے جن میں اکثریت پاکستانی اور یوگو سلاوین افراد کی ہے۔مسجد ناصر سویڈن کی واحد مسجد ہے اس کا افتتاح 194 ء میں ہوا تھا خلیفہ المسیح مرزا طاہر احمد صاحب نے احمدی مسلمانوں کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ہمارے اکثر کام کے بحوالہ روزنامه الفضل ۳۰ دسمبر ۲۱۹۸۲ ص۳۱ - ۳۸