تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 537 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 537

۵۳۷ اس کتاب پر ملک میں بہت تبصرے شائع ہوئے۔چنانچہ عیسائیوں کے واحد روز نامہ KRICTELIQ BAG BLADOT نے اپنی ۲۷ مئی شاہ کی اشاعت میں بنیٹ آسٹر گارڈ ( BENT OSTER GARD ) کے قلم سے اس پر حسب ذیل تبصرہ چھپا بقیة حاشیہ صفحہ گذشتہ ) دے رہے ہیں۔ایک اسکول میں استاد ہیں۔جب ان سے قبول اسلام کا تذکرہ چھڑا تو کہنے لگے۔میں نے جب یو نیورسٹی میں داخلہ لیا تو عربی کو بطور مضمون زبان لیا تھا یعربی رووور رود پڑھی تو قرآن کا مطالعہ بھی کیا اور پھر اس قدر متاثر ہوا کہ دائمہ اسلام میں داخل ہو گیا۔جناب عبدالسلام میر سین نے قرآن پاک کا ترجمہ ڈینیش نہ بان میں پہلی مرتبہ کیا ہے۔وہ یہاں کوپن ہیگن کی لیستی ر RAHDHOVER ) میں تعمیر کی گئی مسجد میں ہر ہفتے ڈینیش زبان میں قرآن پاک کا ترجمہ اور تفسیر بیان کرتے ہیں۔سننے والے ڈینیش مسلمان بھی ہوتے ہیں اور دوسرے مسلمان بھی۔قرآن پاک کے ترجمہ کے علاوہ بھی انہوں نے اسلام پر کئی مختصر کتابیں لکھی ہیں محصور کی حیات طیبہ پڑھی تقریبا سو صفحات کی ایک کتاب لکھی ہے۔آب وہ بچوں کے لئے اسلامی تعلیمات پر مینی مختصر کیا ہیں لکھ رہے ہیں ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں اس کی ضرورت اور اہمیت پر یوں روشنی ڈالی۔اس سلسلے میں دو باتیں پیش نظر ہیں۔پہلی تو یہ کہ نئے ڈمنش مسلمانوں کے بچوں کو اسلام سے واقف کراتا ہے کیونکہ خود یہ نئے مسلمان فی الوقت نہ اتنا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی اتنا وقت کہ اپنے بچوں کو اسلام کی صحیح تعلیم دے سکیں۔دوسری بات یہ ہے کہ یہاں اور یورپ بھر کے اسکولوں میں عام معلومات کے طور پر اسلام کے بارے میں بچوںکو جو کچھ پڑھایا جاتاہے۔وہ زیادہ ترگمراہ کن مواد تشتمل ہے۔اس لئے اگر بچوں کو اس موضوع پر پڑھنے کی کچھ صحیح کتابیں مل جائیں تو مستقبل میں اسلام سے راہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بچوں کے لئے لکھا کچھ کہاں کام نہیں اوروہ بھی دن کے موضوع پر لیکن عبداسلام میدین چونکہ خود استاد یں اس سے توقع ہے کہ اس کام کبھی خوش سونی سے سرانجام دے لیں گے جناب عباس نام کوین میگن سے کافی دور ایک دو سر شہرمیں اقامت پذیر ہیں لیکن دین کی خدمت کا جذبہ انہیں ہر ہفتے باقاعدگی سے اتنی دور آنے پرمجبور کرتا ہے۔وہ ہر ہفتے اپنے مقررہ وقت پر آتے ہیں اور حق کے متلاشی لوگوں کی پیاس بجھا کر جاتے ہیں نہیں نے چند بار ان محفلوں میں شرکت کی اور دیکھا کہ نشست کے دوران ان سے نئے نئے سوالات بھی کئے جاتے ہیں اور وہ خندہ پیشانی سے سہکے جوابات دیتے ہیں اللہ ان کی مدد فرمائے اور انہیں اس کا اجر عطا فرمائے " داخبارہ " جسارت " کراچی ۲۲ جنوری ۹۷۳ اید مث کالم )