تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 526
تبكُمْ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ : وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا انَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ۔(الانعام آیت ۱۰۳ تا ۱۰۵) وہ د تر جمہ )۔یہ ہے تمہارا اللہ جو تمہارا رب (بھی) ہے۔اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ہر ایک چیز کا پیدا کرنے والا ہے۔پس اُس کی عبادت کہ د اور وہ ہر ایک (چیز) پر نگران ہے۔نظریں اس تک نہیں پہنچ سکتیں۔لیکن وہ نظروں تک پہنچتا ہے اور وہ مہربانی کرنے والا اور حقیقت پر آگاہ ہے۔تمہارے رب کی طرف سے بظاہر (دلائل) آچکے ہیں۔پس جس نے انہیں جان لیا۔اس کا یہ فعل ) اس کے اپنے (فائدہ کے) لئے ہوگا۔اور میں نے کجروی اختیار کی داس کا یہ فعل ) اسی پر پڑے گا اور میں تمہارا ھی فط نہیں ہوں۔اس کے بعد حضور نے ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حیرت انگیز تصریف آیات ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے جیسا کہ اُس نے اگلی ہی آیت میں فرمایا وكذلك نصرت الاذیت یعنی ہم اسی طرح آیات کو پھیر پھیر کر لاتے ہیں۔اسلوب بیان کے اچانک بدلنے کو تصریف کہتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالی نے اسلوب بیان بدلا ہے اور یہ بے حکمت نہیں ہے۔یہاں طبعا یہ الجھن پیدا ہوتی تھی کہ اتنے حسین قدرتی نظارے دیکھ کر بھی لوگ خدا تعالے سے کیوں غافل ہوتے ہیں اور اُس کے منکہ ہو بیٹھتے ہیں۔بر خلاف اس کے صحراؤں اور ویرانوں میں رہنے والوں کو وہ کیسے نظر آ جاتا ہے۔یہاں کے لوگوں کو دیکھ کہ یہ الجھن میرے دل میں بھی پیدا ہوئی۔اور کی پریشان ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سر زمین ریعنی ناروے کی سرزمین) کو قدرتی حسن سے مالا مال کرنے میں بڑی فیاضی سے کام لیا ہے۔اس کے باوجود یہاں کے لوگ جنہیں سب سے زیادہ اس کا شکر گنہار ہونا چاہیے تھا خود اس کی مہنتی ہی کے منکر ہوئے بیٹھے ہیں۔اور اس سے نافل ہیں۔تعریف آیات کے طور پر یکدم اسلوب بیان بدل کو اللہ تعالی نے یہ الجھن دور کر دی۔جب میری نظر اس سے اگلی آیت کی طرف گئی۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ لَا إِلهَ إِلَّا هُوَ وَ اخرضْ عَنِ الْمُشْرِكين - تو تمام الجھنیں دور ہو گئیں۔یہاں اللہ تعالی نے تصریف آیات A