تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 525
۵۲۵ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے نارویجین معززین کے علاوہ اوسلو کے میٹر محترم الیٹ نور نیگن ( ALBERE NOR DENGEN ) بھی شامل ہوئے حضور نے موصوف کو قرآن مجید کے انگریزی ترجمہ کا ایک نسخہ اور بعض دیگر متخالف ہے۔معززین کے ساتھ بہت خوشگوار ماحول میں تبادلۂ خیالات کا دلچسپ سلسلہ ایک گھنٹہ سے زائد عرصہ تک جامہ کی رہا۔الوداعی مصافحہ کے وقت اوسلو یو نیورسٹی کے دو نوجواں طلباء کی درخواست پر حضور نے ایک گھنٹہ تک حضرت مسیح علیہ اسلام کے واقعہ صلیب اور ان کی ہجرت کے بارہ میں جماعت احمدیہ کا نقطہ نظر پیش فرمایا۔حضور کی گفتگو کے معا بعد یونیورسٹی کے دو طالب علم تیبانی تائید کا ایک خاص نشان مشن ہاؤس کے صحن میں ہی اپنے پادری سے لکھے گئے اور اسلام کی تائید میں اس کے ساتھ زور شور سے بحث کرنے لگے۔دونوں طالب علم اتنے پُر جوش تھے کہ پادری صاحب گھبرا گئے اور اس خیال سے کہ یہاں اور لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے۔ان طالب علموں کو لے کر فورا مشن ہاؤس سے باہر نکلنا چاہا۔لیکن وہ طالب علم چند قدم چین کم پھر پادری صاحب کو روک لیتے اور پھر ان سے بحث کرنے لگ جاتے۔اس طرح سے بار بار بحث کر کے طالب علموں نے پادری صاحب کا ناطقہ بند کر دیا اور ان کو اپنی جان چھڑانی مشکل ہو گئی۔سب دوست پیچسپی سے یہ منظر دیکھتے رہے۔اللہ تعالیٰ کی خاص تائید و نصرت کا یہ ایک خاص علمی نشان تھا جو حضور کے دورے کے آغاز میں نامردے کی سرزمین میں ظاہر ہٹو ایہ ر اگست ۱۹۸۶ء کو حضور نے مسجد نور میں نمازہ جمعہ پڑھائی۔اس روز اوسلو ہی نہیں بلکہ ناروے کے دوسرے شہروں سے احباب مع مستورات بہت کثیر تعداد میں آئے ہوئے تھے۔حضور نے درج ذیل آیات قرآنی تلاوت فرمائیں ار ذلِكُمُ اللهُ رَبِّكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ؟ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلِ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُه قَدْ جَاءَ كُمْ بَصَائِرُ مِنْ تلخيص روزنامه الفضل ۱۵ ستمبر له ۳۰-۶-