تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 527
۵۲۷ کے ذریعہ یہ امر ذہن نشین کر آیا ہے کہ بصائر جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی مہستی پر سختہ ایمان پیدا ہوتا ہے۔انسانوں کو نبیوں کی وساطت سے عطا کئے جاتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مبعوث ہو کہ یہ اعلان فرمایا کہ کہیں بصیرتوں کا منبع اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر اتم بن کر تمہارے پاس آگیا ہوں۔میں تمہارا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کروں گا۔اور تمہارے لئے خدا کی مستی کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی۔ان آیات میں خدا تعالی در اصل یہ تبتا رہا ہے کہ حسن قدرت کے ذریعہ شرک پیدا نہیں ہوتا۔نبی آتا ہے اور خدا تعالیٰ سے انسانوں کا رشتہ جوڑتا ہے۔جب وہ چلا جاتا ہے تو رفتہ رفتہ شرک پھر سر اٹھاتا ہے اور مناظر قدرت شرک کی جگہ لے لیتے ہیں۔جب ان آیات کی طرف توجہ مبذول ہوئی تو سب اُلجھنیں دور ہو گئیں۔نمازہ جمعہ کے معا بعد جماعت احمد یہ ناروے کی سب سے پہلی مجلس شوری پہلی مجلس شوری منعقد ہوئی جس میں جماعت احمد یہ ناروے اور اس کی ذیلی تنظیموں کی مجلس عاملہ کے اراکین اور دیگر صائب الرائے افراد نے شرکت کی حضور کی منظوری سے محترم صاحبزادی مرزا انس احمد صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد اور محترم چوہدری حمید اللہ صاحب صدر مجلس انصاله مرکزہ یہ نے صدر انجمن احمدیہ پاکستان کی ، محترم چوہدری محمد انور حسین صاحب امیر جماعت ضلع شیخو پوره اور محترم محمود احمد صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ نے انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کی اور محترم صاحبزادہ مرزا فرید احمد صاحب نائب صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکز یہ نے قدام الاحمدیہ کی نمائندگی کی۔انجمن احمدیہ وقف جدید کی نمائندگی خود حضور نے فرمائی۔محترم صاحبزادہ مرزا انس احمد صاحب نے پرائیویٹ سیکرٹری کی حیثیت سے سیکرٹری مجلس شوری کے فرائض سرانجام دیئے یتقامی جماعت کے ایک صاحب نے لجنہ اماء اللہ ناروے کے نمائندہ کی حیثیت سے مجلس شورٹی میں شرکت کی۔کارروائی کا آغا نہ تلاوت قرآن سے ہوا جو بشارت احمد صاحب صابر نے کی۔بعد ازاں حضور نے دعا کرائی۔پھر حضور انور نے اراکین شوری سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔جماعت احمدیہ ناروے کے لئے آج کا دن 4 اگست ۱۹۱۳ء بروز جمعہ المبارک ) ایک تاریخی دن ہے کیونکہ آج بفضل الله تعالیٰ اس کی پہلی مجلس شوری منعقد ہو رہی ہے۔جب قو میں پھیلتی ہیں اور قومی و جماعتی کاموں میں وسعت پیدا ہوتی ہے تو شوری کے نظام کو بھی وسیع کہ نا ضروری ہوتا ہے۔اب چونکہ جماعت