تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 516
014 ہے) اس جماعت کی تبلیغی مساعی کا اصل محور تبلیغ اسلام ہے۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ لوگ تبلیغ کس طرح کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا ہم سڑکوں پر نکل کر تبلیغ نہیں کرتے۔ہم براہ راست لوگوں کے دلوں تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔خلیفہ مسیح نے خدا تعالیٰ کی بہتجی کے متعلق اپنے عقیدہ اور از روئے السلام انسانی حقوق کی بھی وضاحت فرمائی۔آپ نے بتایا کہ انسانیت کے چار علیحدہ شعبے ہیں جسمانی، ذہنی، ثقافتی اور روحانی۔ان چاروں شعبوں میں انسانی ترقی کو نقطہ عروج پر پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ انسان ان سے متعلق اپنے حقوق پہچانے۔کیونکہ کوئی شخص بھی ہمہ جہتی حقوق کا علم حاصل کئے بغیر حقیقی رنگ میں حقوق انسانی کے لئے سعی نہیں کر سکتا۔ان حقوق کا صحیح علم حاصل کرنے کا واحد ذریعہ السلام ہی ہے کیونکہ اس نے جملہ حقوق انسانی کو واضح طور پر متعین کیا ہے۔نہ اشتراکیت ہی نے انسانی حقوق کو واضح کیا ہے اور نہ سرمایہ داری نظام نے ہی ان کی تعیین کی ہے۔سچ بات یہ ہے کہ کوئی دنیوی نظام بھی ہمہ جہتی حقوق انسانی کی نشاندہی نہیں کر سکتا۔حقوق انسانی کا صحیح علم خدا تعالیٰ ہی کو ہے جو ہر نئے کا خالق و مالک ہے۔اور وہی اُن کی تعیین بھی کر سکتا ہے۔اسی لئے حقوق انسانی کی تعیین اور نشاندہی کا واحد ذریعہ اسلام ہی ہے۔مالمو میں چالیس نمبروں کے علاوہ گوٹن برگ سٹاک عالم ، لند اور بین شوپنگ میں اس جماعت کے نمبر موجود ہیں۔اپنے حالیہ دورہ میں خلیفہ المسیح نے ان سب سے ملاقات کی ہے۔ڈنمارک میں بچوں کے نام رکھنے نیز شادی احمدی مبلغ کو وزارت انصاف کی خصوصی اجازت اور کان کے سلسلہ میں موجود ستور کے مطابق صرف پبلک چوپ یو تھرن چوپ کیتھولک چرپ۔اہل یہود اور میتھوڈسٹ چرچ کو قانونی حق حاصل تھا۔باقی تمام چرچوں اور مذہبی جماعتوں کو خواہ وہ عیسائی ہوں یا غیر عیسائی، یہ حق حاصل نہیں تھا۔یا تو انہیں انہی چرچوں میں سے کسی ایک چرچ میں اس مرض کے لئے جانا ضروری تھا یا پھر ٹاؤن ہال میں بچوں کے نام اور نکاح وغیرہ کی روایات چہرہ سے مختلف که روزنامه سکون کا ڈاگ بلادت ۴ ر اگست ۹ ایر ها کالم نامه سیجواله الفضل ۲۳ اگست ۹۶ اید