تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 515
۵۱۵ وہ نئے پیدا ہونے والے مسائل کے حل کو قرآنی تعلیم کی نئی الہامی تو جیہات کے ذریعہ اپنے خاص بندوں پر منکشف فرمانا رہتا ہے۔اس ضمن میں آپ نے واضح فرمایا کہ قرآنی ہدایات کی پرانی تعبیریں اور تفسیریں اس زمانہ کے نئے مسائل حل کرنے کے سلسلہ میں کافی نہیں ہیں۔اس کے لئے نئی روشنی اور نئی راہنمائی کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ انسانوں سے ) کلام کرتا ہے۔اور ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق قرآنی تعلیمات کی نئی تشریحات و توضیحات منکشف فرماتا ہے۔حضرت مرزا ناصر احمد نے پورے وثوق اور یقین کے ساتھ اعلان فرمایا کہ ایک دن دنیا کے تمام لوگ اسلام قبول کر لیں گے۔آپ نے اس خیال کا اظہار فرمایا کہ ایسا آئندہ ۱۱۵ سال کے اندر اندر ہو جائے گا۔اس ضمن میں آپ نے واضح فرمایا کہ سوال یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے عیسائیت ترک کروا کے انہیں مسلمان بنا لیا جائے گا بلکہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ایک دن ساری دنیا مسلمان ہو جائے گی تو اس سے ہماری مراد یہ ہے کہ اسلام کی پیاری اور حسین تعلیم اپنے باطنی محسن کی وجہ سے ایک دن ساری دنیا کے لوگوں کے دل جیت لے گیا۔اُس وقت رُوئے زمین پر بسنے والے انسانوں کے نظریات میں انقلاب آئے بغیر نہ رہے گا۔سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا، حقیقت یہ ہے کہ مغرب میں اسلام کو غلط سمجھا گیا ہے۔اسی لئے اس بارہ میں یہاں بہت سی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔اسلام ہر گھنہ جبر و تشدد کا مذہب نہیں ہے بلکہ یہ تو پیار ومحبت اور امن و آزادی کا علمبردارہ مذہب ہے۔آپ ے خبر دار فرمایا کہ اگر ہم اس عالمگیر تباہی سے بچنا چاہتے ہیں جو کرہ ارض پر منڈلا ر ہیں۔ے تو ہمیں انسانوں اور قوموں کے مابین حقیقی مساوات کے قیام کے لئے جد و جہد کرنی چاہئیے بلے " (۳) جنوبی سویڈن کے سب سے اہم اور با اثر اخیارہ روزہ نامہ سکو نسکا ڈاگ بلادت SKANS KA DAG BLADET نے اس عنوان کے تحت لکھا :- خلیفہ اسیح کی مالمو میں تشریف آوری کے موقع پر مسلمان خواتین بھی آئی ہوئی تھیں " جماعت احمدیہ با یک تبلیغی جماعت ہے۔راور ساری دنیا میں تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے میں منہمک ے آرہے تت گوٹن برگ ۲ اگست شاه بحواله الفضل ۲۲ اگست شاء ۳۰-۵