تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 513
۵۱۳ بسا غنیمت ہے۔یہ خلاصہ ہے مسلمان فرقہ احمدیہ کے خلیفہ حضرت حافظ مرزا ناصر احمد کی اس گفتگو کا جو انہوں نے گذشتہ بدھ (۲۶) جولائی شتاء) کو اوسلو میں اخباری نمائندوں سے ملاقات کے دوران فرمانی۔۔۔۔خلیفہ مسیح اس خالص مذہبی جماعت کے روحانی سر براہ اعلیٰ ہیں۔دنیا بھر میں اس جماعت کے افراد کی تعداد ایک کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ان میں سے ۳۰ در افراد نامرو سے میں رہائش پذیر ہیں خلیفہ مسیح کے متبعین ان سے اُسی عقیدت و احترام سے ملتے ہیں جو کیتھولک عیسائی پوپ کے ساتھ روا رکھتے ہیں۔۔اس جماعت کا قیام ہندوستان میں شائر میں عمل میں آیا تھا۔موجودہ خلیفہ بانی سلسلہ کے تیسرے جانشین یا خلیفہ ہیں۔ان لوگوں کا دعوئی یہ ہے کہ وہ حقیقی اسلام کے علمبردار ہیں اور اسی کی دُنیا میں تبلیغ کرتے ہیں۔ان کا یہ حقیقی اسلام دنیا کے دوسرے ساٹھ کروڑ مسلمانوں کے اسلام سے قدرے مختلف اور ممانہ حیثیت کا حامل ہے۔خلیفہ السیح لندن میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد یہاں آئے تھے۔اس کا نفرنس میں مسیح کی صلیبی موت سے نجات کا موضوع زیر غور آیا تھا۔اس فرقے کا دعوی ہے کہ ایسے شواہد اور ثبوت موجود ہیں جن سے اس بارہ میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا کہ میں واقعہ صلیب کے بعد نوے سال تک زندہ رہے۔وہ مشرق کی جانب پیدل سفر کرتے ہوئے اُن علاقوں میں گئے جہاں بنی اسرائیل کے گمشدہ قبائل آباد تھے۔وه ایران، افغانستان اور کشمیر آئے یہاں انہوں نے ان گندہ قبائل میں شریعت موسوی کی تبلیغ کی اور انہیں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بعثت کے لئے تیار کر لیا۔۔۔خلیفہ المسیح نے بحیثیت نبی مسیح کے مرتبہ و مقام کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا وہ خدا کا بیٹا ہرگز نہ تھے۔وہ تمام دوسرے انسانوں کی طرح ) ایک عورت کے بطن سے پیدا ہوئے تھے۔جماعت احمدیہ ایک پر جوش تبلیغی جماعت ہے۔اور خلیفہ المسیح سال کا ایک بڑا حصہ اپنی جماعت کا دورہ کرنے اور اس طرح ان کی نگرانی و راہ نمائی کرنے میں گزارتے ہیں۔۔۔۔- خلیفہ المسیح نے پولیس کا نفرنس میں الوداعی کلمات کہتے ہوئے فرمایا۔اسلام بڑا ہی پیارا اور حسین مذہب ہے۔اگر ایک فوعہ تم اس کے حسن کے گرویدہ ہو گئے تو اس سے جدائی تمہیں ہر گنہ گوارا نہ ہوگی ہے ے بحوالہ الفضل -4 اگست ۱۹۴۷ ص۲ -