تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 471 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 471

لئے گیا تو وہ کہنے لگا کہ تم مجھ پر یہ مہربانی کرو کہ یہ روپیہ میری طرف سے اپنے امام کو بھجوادو اور انہیں کہو کہ وہ جس طرح چاہیں اس روپیہ کو خرچ کریں اب دیکھو ایک دہر یہ انسان ہے خدا تعالیٰ پر رات دن مہنسی اڑاتا ہے۔اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔لیکن اس پر ایسا اثر ہوا ہے کہ جب اسے ٹیوشن کی فیس پیش کی جاتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ یہ روپیہ مجھے نہ دو۔بلکہ اپنے امام کے پاس بھیج دو اور انہیں کہو کہ وہ اسے جس طرح چاہیں خرچ کریں۔اس کے بعد میں نے تو پانچواں خط کھولا وہ ایک احمدی دوست کا تھا جو انڈونیشیا سے بھی پرے رہتے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ یہ اطلاع ملتے ہی کہ بیرونی مشنوں کو جو روپیہ بھجوایا جاتا تھا۔اس میں کمی آگئی ہے میں نے اڑھائی سو پونڈ لنڈن بنک میں تحریک جدید کے حساب سے جمع کروا دیا ہے میری تو انش تھی کہ میں چھ سو پونڈ جمع کراؤں۔مگر سردست فوری طور پر میں نے اڑھائی سو پونڈ بنک میں جمع کرا دیا ہے۔پھر چھٹا خط میں نے کھولا تو وہ ایک ایسے دوست کی طرف سے تھا جو پاکستان کے باہر کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے لکھا آپ اس فکر میں اپنی صحت کیوں برباد کر رہے ہیں۔ہماری جائیدادیں اور تمہارے بیوی بچے کس غرض کے لئے ہیں۔ہم ان سب کو قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔آپ یو نوں کا فکر نہ کریں آپ جیتنے پونڈ چاہیں گے ہم جمع کر دیں گے اور اس بارہ میں آپ کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونے دیں گے۔غرض اس طرح متو اثر خطوط آنے شروع ہو گئے ہیں کہ صاف معلوم ہوتا ہے اس خطبہ کے پہنچتے ہی تمام جماعتوں میں اک آگ سی لگ گئی ہے اور لوگ انتہائی بے تابی کے ساتھ اس کمی کو پورا کرنے کے لئے آگے بڑھ رہے ہیں۔اسی طرح پشاور سے ایک دوست کا خط آیا جس میں انہوں نے لکھا کہ یہ خطبہ پڑھ کر مجھے سخت تکلیف ہوئی ہے۔اگر تمام احمدی کوشش کہیں تو کیا وہ سات ہزار دو سو پونڈھی جمع نہیں کر سکتے۔ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے اس کام کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔اور ہم خود اس روپیہ کو جمع کریں گے۔آپ اس بارے میں کسی قسم کی تشویش سے کام نہ لیں، یہ تو کل اور پرسوں کی ڈاک کا ذکر تھا۔آج ڈاک آئی اور میں نے اسے کھولا تو اس میں سے ایک شہر کی خدام الاحمدیہ کی مجلس کی طرف سے خط نکلا جس میں یہ ذکر تھا کہ ہم نے آپ کا خطبہ تمام خدام کو پڑھ کر سنایا۔جس پر فوراً مقامی خدام نے دو سو روپیہ چندہ کے وندے لکھوا دیئے اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ یہ روپیہ وصول کر کے بہت جلد مرکز میں بھجوادیں۔