تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 472 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 472

۴۷۲ عرض دیکھو مہارا خدا کیسا زندہ خدا ہے کہ جو کام ہم نہیں کر سکتے تھے اس کے لئے وہ آپ سامان مہیا کر رہا اور خود لوگوں کے دلوں میں تحریک کر رہا ہے۔چنانچہ ایک طرف ایک ٹرکی پروفیسر کے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے کہ وہ اپنی کمائی کا روپیہ اپنی ذات پر خرچ کرنے کی۔بجائے تبلیغ اسلام کے لئے بھیجوا دے تو دوسری طرف ایک جرمن ڈاکٹر کے دل میں تحریک پیدا ہوتی ہے کہ ہم خود اسلام کی اشاعت میں حصہ لینے کے لئے تیار ہیں۔آپ دیباچہ کا ترجمہ ہماری ملکی زبان میں کروا دیں تو لاکھوں لوگ احمدی ہونے کے لئے تیار ہیں۔اسی طرح جو پاکستان کے باہر احمدی رہتے ہیں۔اُن کے دل میں تحریک پیدا ہوئی ہے اور وہ لکھتے ہیں کہ آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔آپ ہمیں حکم دیں تو ہم اپنے بیوی بچے بھی اس راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں اور جتنے پونڈ چاہیں گے ہم جمع کر دیں گے۔مگر ہم سے یہ تکلیف نہیں دیکھی جاتی کہ آپ فکر اور تشویش سے اپنی صحت کو برباد کر لیں بغرض اللہ تعالیٰ نے اپنے زندہ اور قادر ہونے کا ایک نمایاں ثبوت ہمارے سامنے پیش کر دیا ہے اور بتا دیا ہے کہ وہ کتنی بڑی طاقتیں رکھنے والا خدا ہے اس سلسلہ میں یہ بھی فرمایا کہ :۔ہماری مثال حضرت عائشہ والی ہو گئی ہے۔جب مدینہ میں پہلی دفعہ ہوائی چکیاں آئیں اور یا ایک آٹا پینے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ازواج مطہرات میں سے سب سے پہلے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ آٹا تحفہ پیش کیا جائے۔چنانچہ مدینہ میں سب سے پہلے یہ آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر بھجوا دیا گیا۔اور اس کے پھلکے تیار کئے گئے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ اس سے پہلے پتھر پر دانہ کوٹ کو دلیہ سا بنا لیا جاتا تھا اور اس کی روٹی تیار کی جاتی تھی جب پہلی دفعہ نرم اور ملائم آٹے کی روٹی پکا کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کی گئی تو آپ نے اس میں سے ایک لقمہ توڑ کر اپنے منہ میں ڈالا اور پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگ گئے۔ایک عورت جو پاس بیٹھی ہوئی تھی وہ کہنے لگی۔بی بی آپ روتی کیوں ہیں۔روٹی تو بڑی ملائم اور نرم ہے اور ہم نے اس آٹے کی بڑی تعریف شنی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ه روزنامه الفضل ربوه ۱۰ جولائی ۱۹۵۶ء صفحه ۴۰۳۔!