تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 470
شائد اب ہمیں اپنے مشن بند کرنے پڑیں مگر ادھر میں نے خطبہ پڑھا اور اُدھر اللہ تعالیٰ کا فصل دیکھو کہ ایک دن میں نے ڈاک کھولی تو اس میں ہمارے ایک مبلغ کا خط نکلا جس میں اس نے لکھا کہ ایک جرمن ڈاکٹر نے احمدیت کے متعلق کچھ لڑ بیچر پڑھا تو اس نے ہمیں لکھا کہ مجھے اور لٹریچر بھیجواؤ۔چنانچہ اس پر میں نے آپ کا لکھا ہوا دیبا چہ قرآن اسے بھیجوا دیا۔دیباچہ پڑھے کہ اس نے لکھا کہ میں چاہتا ہوں کہ اس کو اپنے ملک میں چھاپا جائے اور بڑی کثرت سے یہاں پھیلایا جائے اور میں اس بارے میں آپ کی ہر طرح مدد کرنے کے لئے تیار ہوں۔پھر اس نے لکھا کہ یہاں بیس لاکھ جرمن نسل کے مسلمان پائے جاتے ہیں۔اگر دیباچہ کا یہاں کی زبان میں ترجمہ ہو جائے تو ہیں لاکھ مسلمان عیسائیوں کے ہاتھ میں جانے سے بچ جائے گا۔اور وہ احمدیت کو قبول کرلے گا۔گویا ہم تو یہ ڈر رہے تھے کہ کہیں خدانخواستہ ہمارے پہلے مشن بھی بند نہ ہو جائیں اور اللہ تعالے نے ہماری تبلیغ کے لئے راستے کھول دیئے۔پھر جب خطبہ شائع ہوا تو باہر سے بھی اور اندر سے بھی ہمارے خدا کے زندہ ہونے کی کثرت سے مثالیں ملتی شروع ہو گئیں۔ایک غیر احمدی کا خط آیا کہ میں نے آپ کا خطبہ پڑھا تو میرا دل کانپ گیا کہ آپ کو اسلام اور مسلمانوں کی تکلیف کی وجہ سے کس قدر دکھ ہوا ہے۔ہمیں سو روپیہ کا چیک آپ کو بھجوا رہا ہوں آپ اس روپیہ کو جس طرح چارہیں خرچ کریں پھر ایک اور خط کھولا تو وہ ایک احمدی کا تھا اور اس میں لکھا تھا کہ میں سو روپیہ بھجوا رہا ہوں تاکہ بیرونی مشنوں کے اخراجات میں جو کمی آئی ہے وہ اس سے پوری ہو سکے۔پھر ایک عورت کا خط آیا کہ میں پچاس روپے بھجوا رہی ہوں تاکہ جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ ہو سکے۔پھر چوتھا خط میں نے کھولا تو اس میں ایک ترکی پروفیسر کا ذکر تھا۔ہمارا ایک احمدی ان دنوں ایک ترکی پروفیسر سے ترکی زبان سیکھ رہا ہے اور ایک سو بیس روپے ماہوار اسے ٹیوشن دیتا ہے وہ ترکی پروفیسر اسلام کا دشمن تھا اور رات دن اسلام اور مستی باری تعالی پر اعتراض کرتا رہتا تھا وہ احمدی لکھتا ہے کہ کہیں نے ایک دن فیصلہ کیا کہ چاہے میری پڑھائی ضائع ہوجائے میں نے آج اس سے مذہبی بحث کرتی ہے۔چنانچہ میں اس سے بحث کرتا رہا۔اور پھر میں نے اسے آپ کا لکھا ہوا دیباچہ قرآن دیا کہ وہ اسے پڑھے وہ دیباچہ لے گیا اور پڑھنے کے بعد مجھے کہنے لگا کہ میں آج سے پھر سلمان ہو گیا ہوں ، پھر جب مہینہ ختم ہوا اور میں اسے روپیہ دینے کے