تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 36
ہندوستان اہلیہ : کثرت باراں اور سیلاب سے صوبہ اڑیسہ کے ہزاروں دیہات تذر آب ہو گئے۔قادیان سے بے خانماں لوگوں میں ریلیف کا کام شروع کرنے کے لئے دوسو روپیہ بھجوایا گیا اور سو رو پیر اور کچھ پارسان جماعت ہائے اریبہ نے خود جمع کر کے ۱۷ اکتوبر ۹۵ار کو تین وفود متأثرہ علاقہ میں بھیجوا دیے۔پہلا وقد مولوی محمد محسن صاحب ، مولوی سید غلام مہدی صاحب مبلغ سلسل احمدیہ کٹک ، مکرم سید ضیاء الدین صاحب نائب امیر سونگھڑہ اور میاں رحمت علی صاحب مشتمل تھا جو جانب موضع سدانند پورہ پنسو دہ بھجوایا گیا۔دوسرا وقد مولوی سید صمصامر علی صاحب ، مولوی سید فضل عمر صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ و میاں محمود احمد صاحب قائد ملبس خدام الاحمدیہ سونگھڑہ پشتمل جانب چٹو وہ کلاٹ ون بندھا کی طرف بھجوایا گیا۔تیسرا وند جو منشی محمد یوسف خانصاحب و مولوی سید محمد موسی صاحب مبلغ سلسلہ عالیہ احمدیہ اور منشی شہاب الدین صاحب پوشتمل تھا التی کی جانب بھیجوایا گیا۔ان وفود نے سیلاب زدگان میں نقد رقوم اور پارچات تقسیم کئے۔وفود کو دلدل اور پانی میں سے گزر کر سیلاب زدہ دیہات میں جانا پڑا لیکن انہوں نے محض خدمت خلق کے اسلامی جذبہ کے تحت خندہ پیشانی اور تن دہی سے یہ کام سرانجام دیا۔جماعت احمدیہ کی اس خدمت کو ہندو اور مسلمان معززین کے علاوہ افسران نے بھی سرا پایه ۲۔قادیان : ساٹھ گھنٹہ کی مسلسل طوفانی بارش نے قادیان اور اس کے مضافات میں حشر سا بپا کر دیا تھا۔یہ بارش ۳ اکتوبر سے شروع ہوئی جس سے علاقہ کے بہت سے مکانات گر گئے۔قادیان کی آبادی میں سب سے زیادہ نقصان احمدیہ محلہ کا ہوا جو شہر کے مجموعی نقصان کا نصف تھا۔پچاس مکانات تو بالکل بوند نہ مین ہو گئے اور ہم کو سخت نقصان پہنچا اور کئی لاکھ کا نقصان ہوا۔وجہ یہ کہ قادیان اور اس کے نواح کا سارا پانی جمع ہو کر اسی جہت میں بہ نکلا۔جہاں درویشوں کا محلہ واقع ہے سب سے ے ہفت روزه بدر قادیان ۲۱ نومبر ۵۵ار صد درپورٹ سید محمد احمد صاحب صوبائی امیرارڈ لیہ)