تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 37
لسلام زیادہ متاثر حلقہ ناصر آباد ہوا۔جو نسبتاً نشیبی حصہ پر تھا بارش اور سیلاب کا پانی جب اس محلہ میں داخل ہونے لگا تو اس کے مکین اندرونی محلہ میں منتقل ہونے لگے۔پانی کی سطح اتنی بلند ہوگئی تھی کہ ضروری سامان کو اندرونی حقہ میں لانے کے لئے کشتیاں استعمال کرنا پڑیں اور درویشوں نے ہمشکل مساجد میں پناہ لی۔اسی اثنا میں قریشی عطاء الرحمن صاحب ناظر بیت المال دوسرے بھائیوں کے لئے بھاگ دوڑ کرتے ہوئے گر پڑے اور ان کے بائیں بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی۔اس نشیبی حصہ میں جو درویش مقیم تھے اُن کا غلہ اور سرمائی سامان سب غارت ہو گیا اور کھیتی باڑی کر کے اپنا بوجھ اُٹھانے والے درویش اپنی فصلوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔بہشتی مقبرہ کی طرف جانے والی سڑک سیلاب میں بہہ گئی اور رستہ پانی کے دباؤ کے باعث ناقابل عبور ہو گیا۔اور اگر بعض درویش اپنی جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر مدد کو نہ پہنچتے تو بعض غیر مسلموں کا ڈوب جانا یقینی تھا۔قادیان میں ہم اکتوبر سے ۱۸ اکتوبر تک بجلی اور ریل کی آمد ورفت اور تار اور ٹیلی فون کا سلسلہ بند ر ہا اور قادیان کی لیستی کئی دن تک باقی دنیا سے منقطع رہی۔بارش کی اس شدت کے دوران نہ صرف درویشیان قادیان کے حوصلے نہایت بلند رہے بلکہ انہوں نے اپنے غیر مسلم بھائیوں کی خدمت واعانت کا کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا کئی بھائیوں کو اپنے محلہ کے اندرونی حصہ میں پناہ دی اور کئی ہمسایہ دوستوں کو فراخدلانہ پیشکش کی کہ جب بھی وہ اپنے یہاں زیادہ خطرہ محسوس کریں احمدیہ محلہ میں تشریف لے آئیں۔جب بارش پرمسلسل چالیس گھنٹے گزر چکے تو بعض غیر مسلم احباب نے خواہش ظاہر کی کہ فوری طور پر حضرت امام جماعت احمدیہ کی خدمت میں بذریعہ تار درخواست دعا کی جائے چنانچہ جب انہیں بتایا گیا کہ جماعت احمدیہ قادیان کی طرف سے تار دی جا چکی ہے تو وہ بھی مطمئن ہو گئے اور درویشوں کے دلوں کو بھی سکیت حاصل ہوئی ہے اس مرحلہ پر قادیان کے ایک جوان ہمت درویش مرزا محمود احمد صاحب کا ذکر کرناضروری ے ہفت روزہ یہ کہ قادیان ۲۱ / اکتوبر شاء صلا