تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 35 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 35

۳۵ شدید جانی و مالی نقصان ہوا کہ تباہی اور بربادی کے صدیوں کے ریکارڈ مات ہو گئے اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے نہایت جلالی الفاظ میں پیش گوئی فرمائی تھی کہ : " نوح کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آجائے گا " اے سیلاب کی ہولناکیوں کو دیکھ کر دانشوروں کی زبان پر سچے بچے طوفان نوح کے الفاظ جاری ہو گئے۔چنانچہ دلی کے اخبار " دعوت نے لکھا کہ :- " طوفان نوح کے بعد سے اتنے وسیع و عریض خطر پر اس قدر تباہ کن سیلاب ہندوستان میں کبھی نہیں آیا۔عام طور پر سادہ لوح ذہنیت ہیں اور اس ملک کے وہ لوگ ا جو اہل مغرب سے بھی زیادہ مادیت پر یقین کرنے لگے ہیں ان سیلابوں کو ایک اتفاقی ہنگامے سے زیادہ اور کوئی اہمیت نہیں دیتے۔لیکن بصیرت کی آنکھ رکھنے والا خدا ترس انسان اور ایک ایسا شخص جس کی نظر واقعات عالم پر وسیع اور گھری ہو ہندوستان کی معلوم تاریخ کے اس عظیم ترین سیلاب پر سے سرسری طور سے نہیں گذر سکتا۔سیلابوں کی یہ پے در پئے یورش ہر معتدل فہم رکھنے والے آدمی کو جنجھوڑ کو ایسے مقام پر لاکھڑا کرتی ہے جہاں سے وہ اُن کے دور رس نتائج و اثرات پر غور کئے بغیر نہیں رہ سکتا “ سے اسی طرح ہفت روزہ ” چٹان نے اپنی ، ار اکتوبر ۱۹۵۵ء کی اشاعت میں صفحہ ہم پر لکھا :۔قرآن مجید میں طوفان نوح کا ذکر پڑھتے تو عقل کو تاہ اندیش کو حیرت ہوتی لیکن پنجاب کو طغیانی کے جن تھپیڑوں نے ہلاک کیا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طوفان کیا تھا۔لاہور کے طوفان نوح کو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے “ بر صغیر کے احمدیوں نے اس خوفناک سیلاب کے ایام میں جو امدا دمی خدمات انجام دیں اُن کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے :۔ے حقیقة الوحی صفحہ ۲۵۷ (طبع اوّل) اشاعت ۱۵ مئی ۶۱۹۰۷ اخبار دعوت دہلی، در اکتوبر ۱۹۵۵ ء بحوالہ ہفت روزه "بدر" قادیان ۲۱ اکتوبر ۱۹۵۵ء صفحه ۱