تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 446 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 446

हलष (م) " ختم نبوت کا ایک لازمی تقاضا یہ تھا کہ امت محمدیہ بنیان مرصوص کی حیثیت سے قائم علی الحق رہتی۔اس کے جملہ مکاتیب فکر اور تمام فرقوں کے مابین دین کے اساسات پر اس نوع کا اتحاد ہوتا جس نوع کا اتحاد ایک صحیح الذین امت میں ہونا ناگزیر تھا لیکن فور کیجئے کیا ایسا ہوا ؟۔بلاشبہ ہم نے متعدد مراحل پر اتحاد امت کے تصور کو پیش کیا اور سب سے زیادہ قادیانیوں کے خلاف مناظرہ کے سٹیج سے ڈائرکٹ ایکشن کے ویرانے تک ہم نے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام کے تمام فرقے " یک جان ہیں لیکن کیا حقیقتا ایسا تھا۔کیا حالات کی شدید سے شدید قر تا مساعدت کے باوجود مہاری تلوار تکفیر نیام میں داخل ہوئی ؟ کیا ہولناک سے ہولناک تر واقعات نے ہمارے فتاولی کی جنگ کو ٹھنڈا کیا ؟ کیا کسی مرحلہ پر بھی " ہمارا فرقہ حق پر ہے اور باقی تمام جہنم کا ایندھن ہیں " کے نعرہ سے کان نامانوس ہونے ؟ اگر ان میں سے کوئی بات نہیں ہوئی تو بتائیے اس سوال کا کیا جواب ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت پر ایمان رکھنے والی امت کے اگر تمام فرقے " کافر ہیں اور میرا ایک دیگر کو جہنمی کہتا ہے تو لا محالہ ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو سب کو اس گھر اور جہنم سے نکال کمہ اسلام اور جنت کا یقین دلا سکے۔اگر ایک سطحی ذمین اس سوال کا جواب نہ پا کہ ہماری تمام علمی کاوشوں ، مناظروں اور خطابات کے علی الرغم قادیانیت کی اندھی غار میں گر جائے تو اس میں قصور کس کا ہے۔" (۵) " اس وقت جو کوشش " تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے قادیا نیت کے خلاف جاری ہے۔قطع نظر اس سے کہ کوشش کا اصل محرک خلوص ، خدا کے دین کی حفاظت کا جذبہ ہے یا حقیقی وجہ معاشی اور منفی ذہن کے رجحانات کا مظاہرہ ہے۔ہماری رائے میں یہ کوشش نہ صرف یہ کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے مفید نہیں ہے بلکہ ہم علی وجہ البصیرت کامل یقین و اذعان کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ جدو جہد قادیانی شجرہ کے بار آور ہونے کے لئے مفید کھاد کی حیثیت لے ہفت روزه "المنير" لائل پور ۱۹ مارچ ۱۹۵۷ صفوت