تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 447
رکھتی ہے تحفظ ختم نبوت ہو یا مجلس احرار۔ان دونوں کے نام سے آج تک قادیانیت کے خلاف جو کچھ کہا گیا ہے اس نے قادیانی مسئلہ کو اٹھایا ہے۔ان حضرات کے اختیار کہ وہ طرفیل نے راہ حق سے بھٹکنے والے قادیانیوں کو اپنے عقائد میں پختگی کا مواد فراہم کیا ہے۔اور جو لوگ مذبذب تھے انہیں بد عقیدگی کی جانب مزید دھکیلا ہے۔استہزاء، اشتعال انگیزی ، یادہ گوئی ، بے سروپا لفاظی اس مقدس نام کے ذریعہ مالی نین ، لادینی سیاست کے داؤ پھیر، خلوص سے محروم اظہار جذبات مثبت اخلاق فاضلہ سے نہیں کہ دار ، نا خدا ترسی سے بھر پور مخالفت کسی بھی غلط تحریک کو ختم نہیں کر سکتی اور رغبت اسلامیہ پاکستان کی ایک اہم محرومی یہ ہے کہ " مجلس احرار " اور تحفظ ختم نبوت " کے نام سے جو کچھ کیا گیا ہے۔اس کا اکثرو بیشتر حصہ انہی عنوانات کی تفصیل ہے ؛ مجلس مشاورت ۱۹۵۶ء ( ۱۳۳۵) اس سال جماعت احمدیہ پاکستان کی سالانہ مشاورت ۲۹ ، ۳۰ ، ۳۱ مارچ ۱۹۵۶ (امان ۱۳۳۵ ) کو حسب سابق لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کے ہال میں منعقد ہوئی برف اور ہ کی مشاورت کے کے دوران تو حضرت مصلح موعود کراچی میں سفر یورپ کے لئے قیام فرما تھے۔مگر اس مشاورت میں حضور رونق افروز ہوئے اور اپنے ندام کو بیش قیمت ہدایات اور روح پرور کلمات سے نوازا۔مشاورت میں ۳۹۲ نمائندے شامل ہوئے جن میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے علاوہ مندرجہ ذیل ممالک کے نمائندگان بھی تھے۔انڈونیشیا مشرقی افریقہ - چین گولڈ کوسٹ (غانا) شام ڈچ گی آنا۔ٹرینیڈاڈ - عدن - بھارت (قادیان) - مشاورت میں عالمی عدالت انصاف کے حج چودھری محمد ظفر اللہ خانصاحب نے بھی شرکت کی۔اور کارروائی میں مدد کے لئے حضور کے ساتھ سٹیج پر تشریف فرما ر ہے۔اور ایسے وقت میں جب کہ حضور رونق افروز نہ ہوتے آپ کو حضور کی نیابت میں شوری کی صدارت کے فرائض بھی انجام دینے کی سعادت حاصل ہوئی حضرت مصلح موعود لے ہفت روزہ المنیر لائل پور در جولائی شهلاء صفحه