تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 445
۴۵ ام کریں اور اب شاہ صاحب اسی ارشاد رسالت کی تعمیل کے لئے شہر شہر گھوم پھر رہے ہیں تو ہم دکھ بھرے دل سے کہتے ہیں کہ شاہ صاحب نے حضور اقدس کی شان میں دنا دانستہ ایسی گستاخی کی ہے۔جس سے وہ جتنی جلدی تو بہ کر لیں ان کے لئے بہتر ہے شاہ صاحب کی اس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ سید العرب والعجم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے شاہ صاحب کی ان تقریروں کو جو وہ تحفظ ختم نبوت کے نام پر آج تک کرتے رہے اور اب کر رہے ہیں منظوری اور پسندیدگی حاصل ہے اور اسی وجہ سے انہیں دربار رسالت سے یہ امتیازہ عطا ہوا ہے کہ آٹھ کروڑ مسلمانوں میں سے انہیں اس عظیم کام کے لئے منتخب فرمایا گیا ہے۔اور ہم یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ اگر مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب کی یہ تقریریں جو وہ قادیانیت کے خلاف کر رہے ہیں۔(جن میں سے آیات کی تلاوت اور اُن کے بعض مطالب کی تبلیغ کا حصہ جو فی الحقیقت ان کی تقریروں کا لیے ہوگا مستثنیٰ کہ لیا جائے )۔اگر انہیں دربارِ رسالت کی پسندیدگی حاصل ہے تو ہم اس اسلام کو جو کتاب وسنت میں پیش کیا گیا ہے اور جس میں ذہین ، قلب، زبان اور اعضاء کو مسئولیت سے ڈرایا گیا ہے۔خیر باد کہنے کو تیار ہیں۔ہمارے نزدیک شاہ صاحب نے نہایت غلط سہارا لیا ہے اور مسلمانوں میں جو عقیدت رحمتہ اللعالمین با کی هو داعی صلی الہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود ہے اس سے نہایت غلط قسم کا فائدہ اٹھانے کی کوشش " کی ہے۔اور پھر اس میں جب ہم مزید دیکھتے ہیں کہ وہ اس خواب سے مراد یہ لیتے ہیں۔کہ تحفظ ختم نبوت کے نام پر جو نظم ( ؟ ) انہوں نے قائم کر رکھا ہے حضور خاتم النبیین روحی و نقسی فداہ اس نظم کی تائید فرما ر ہے ہی تو ہماری روح لرز جاتی ہے۔اگر خدانخواستہ بینظم اور اس کے تحت متعین کردہ مبلغین کا کام اور اس کے نام پر حاصل کئے گئے ، صدقات ، زکواتی ور چندے اس بُری طرح صرف ہونے کے باوجود انہیں پیغمبر امین کی پسندیدگی حاصل ہے تو ناگزیر ہے کہ ان تمام احادیث رسالت مآب کو خیر باد کہہ دیا جائے جن میں آپ نے مسلمانوں کے مال کے احترام کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔اور جین میں اموال المسلمین میں خیانت کو حرام اور موجب مرزا بتلا یا گیا ہے۔لے ہفت روزہ المنیر لائل پور ۱۹ مارچ ۱۹۵۷ ۶ صفحه ۲