تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 387 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 387

۴۸۷ کی طرف کسی کو توجہ نہیں۔اس دُنیا میں دنیا کی محبت اس قدر بڑھ گئی ہے کہ دنیا میں سوائے اس کے اور کوئی چیز ہی نظر نہیں آتی۔اگر انسان کی طبیعت ترقی کی طرف مائل ہوتی ہے تو وہ صرف یہی سوچتا ہے کہ وہ کوئی نوکری کرلے ، اپنی تجارت کو بڑھائے ، یا زراعت میں ترقی کرے، لیکن وہ کبھی نہیں سوچتا کہ وہ کوشش کرے کہ اس کے دل میں خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی محبت ترقی کر جائے۔اس وقت ہمارے ملک میں محض رسم کے طور پر یہ خوشی پیدا ہو چکا ہے کہ ملک میں اسلامی حکومت قائم ہونی چاہئیے۔حالانکہ سب سے بڑا ملک انسان کا اپنا قلب اور اس کا دماغ ہے۔مگران میں اسلامی حکومت قائم نہیں کی جاتی۔گویا با ہر تو ہم اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔مگر دل اور دماغ میں اسلامی حکومت قائم کرنے کی طرف ہماری توجہ نہیں۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ کراچی میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق پنجاب میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق بر حد میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے، ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ سابق بلوچستان میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے۔ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ایسٹ پاکستان میں اسلامی حکومت قائم ہو جائے لیکن ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے دل ودماغ میں بھی کہ جس پر ہمارا اپنا قبضہ ہے۔اسلامی حکومت قائم ہو کیونکہ اگر ہم یہ کہی کہ ہمیں اپنے دل و دماغ میں اسلامی حکومت قائم کرنی چاہیئے۔اور پھر با وجود اس کے کہ ایسا کرنا ہمارے امکان میں بھی ہے۔ہم اس میں کامیاب نہ ہوں تو دوسرا شخص اعتراض کرے گا کہ اسے ملک میں تو۔اسلامی حکومت قائم کرنے کا فکر ہے۔لیکن ابھی تک یہ اپنے دل اور دماغ میں بھی اسلامی حکومت قائم نہیں کر سکا۔اس اعتراض سے بچنے کے لئے اپنے دل و دماغ کو چھوڑ کر ملک میں اسلامی حکومت کے قیام کا شور مچایا جا رہا ہے۔اگر ہم باہر نکل کر دیکھیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کوئی شخص تاجر ہے کوئی زمیندار کوئی صنعت کار ہے، کوئی پروفیسر ہے، کوئی طالب علم ہے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں " كُلُّكُمْ رَاعٍ وَحُدُكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ تَعِيَّتِهِ ، یعنی تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور جو شخص بھی اس کے تابع ہے اس کے متعلق اس سے سوال کیا جائے گا کہ آیا اُس نے اسے اسلام کی تعلیم پر چلایا ہے یا نہیں ؟ مثلاً باپ ہے۔قیامت کے دن اس سے سوال کیا