تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 388
جائے گا کہ آیا اُس نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو اسلام کی تعلیم پر چلایا ہے یا نہیں۔خاوند ہے اس سے بیوی کے متعلق سوال کیا جائے گا۔افسر ہے اس سے ماتحتوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔دوست ہے اس سے اس کے دوستوں کے متعلق سوال کیا جائے گا۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں جوں جوں تعلیم کا رواج بڑھ رہا ہے دین کی طرف رغبت کم ہو رہی ہے۔تعلیم کو رواج دینا تو ضروری ام تھا۔رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم نے اس امر کو مسلمانوں پر واجب قرار دیا ہے مثلاً آپ نے فرمایا ہے کہ اگر تمہیں چین میں بھی علم سیکھنے کے لئے جانا پڑے تو جاؤ۔اور جب رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نےمسلمانوں کے لئے تعلیم کو اس قدر ضروری قرار دیا ہے تو ہمیں چاہیے تھا کہ اس قدر ضروری چیز کو اس طرح ضبط میں لاتے کہ ہمارے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دین کے بھی خادم ہوتے لیکن ہوتا یہ ہے کہ جب بچے ہوش سنبھالتے ہیں تو وہ فلمی گانے تو یاد کر لیتے ہیں۔لیکن اگر انہیں کہا جائے کہ قرآن کی کوئی سورۃ سناؤ تو وہ انہیں یاد نہیں ہو گی۔مگر اس کے باوجود لوگ اسلامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں۔گویا وہ زور تو اس بات پر لگاتے ہیں کہ کسی طرح شیطانی حکومت کا قیام ہو۔لیکن منہ سے اسلامی حکومت کے قیام کے خواہش مند ہوتے ہیں۔دنیا میں جو کچھ کسی کے پاس ہوتا ہے۔وہی دوسرے کو دیتا ہے۔میرے پاس فلمی گا تے تو ہیں نہیں۔میں ایک مذہبی آدمی ہوں میرے پاس صرف قرآن اور حدیث ہے۔اس لئے میری نصیحت یہی ہے کہ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر قرآن کریم اور حدیث کے مطالعہ میں بھی صرف کردو۔اگر میری اس نصیحت پر عمل کرتے ہوئے آپ روزانہ کچھ وقت قرآن کریم اور احادیث کے مطالعہ میں لگائیں گے اور اس کے احکام پرعمل کریں گے تو آپ لوگوں کے گھروں میں خود بخود اسلامی حکومت قائم ہو جا۔۔گی۔اور جب آپ لوگوں کے گھروں میں اسلامی حکومت کا قیام ہو جائے گا تو مگ میں اسلامی حکومت کے قیام کے لئے آپ کو زیادہ فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ایک دفعہ میں کراچی گیا تو وہاں ایک۔موقع پر مجھ سے کہا گیا کہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے متعلق اپنا نظریہ بیان کروں۔اس وقت نہیں تے یہی کہا تھا کہ جب میں مسلمان ہوں تو میں اسلامی حکومت کیوں نہ مانگوں گا۔اگر میں اسلامی حکومت نہ چاہتا تو ہجرت کر کے پاکستان کیوں آتا میرا پاکستان میں آنا ہی بتا تا ہے کہ نہیں اسلامی حکومت کے قیام کا خواہش مند تھا لیکن کیا اسلامی حکومت میرے بنانے سے بنتی ہے دنیا میں ہم کوئی عمارت بناتے ہیں۔