تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 386
نسلوں کیلئے محفوظ کرنے کا اہتمام کرے۔اس کے علاوہ اس خیال کا بھی اظہارہ فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخی انگوٹھی جماعت کو دے دوں۔اس کے لئے حضور نے یہ تجویز بھی فرمائی کہ اس نگوٹھی کا کاغذ پر عکس لے لیا جائے اور اسے زیادہ تعداد میں چھپوا لیا جائے پھر نگینہ والی انگوٹھیاں تیار کی جائیں۔لیکن نگینہ لگانے سے پہلے گڑھے میں اس عکس کو دیا دیا جائے۔اس طرح ان انگوٹھیوں کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسّلام کی انگوٹھی سے براہِ راست تعلق ہو جائے گا۔گویا اکیس اللهُ بِكَافٍ عبده تگ بھی ہوگا اور وہ عکس بھی نگ کے نیچے دبایا ہوا ہو گا۔پھر اس قسم کی نگ انگوٹھیاں مختلف ممال میں بھیج دی جائیں مثلاً ایک انگوٹی امریکہ میں رہے۔ایک انگلینڈ میں رہے ایک سوئٹزر لینڈ میں رہے۔اسی طرح ایک ایک انگوٹھی دوسرے ممالک میں بھیج دی جائے تا اس طرح ہر رنگ میں حضر میں موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تبرک محفوظ رہے۔" ۲۹ جنوری ۱۹۵۶ء کو گورنمنٹ کالج مرکز احمدیت دیکھنے کے لئے ) ربوہ میں آئے۔طلباء نے مرکزی دفاتر ، خلافت لائبہیر میری اور تعلیمی ادارے بھی دیکھے اور حضرت مصلح موعود کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا۔حضور نے تمام طلباء کو شرف مصافحہ بخشا اور ان کی درخواست پر انہیں اپنے قیمتی نصائح سے بھی مستفید فرمایا : اس موقع پر حضور نے جو تقریر فرمائی اس کا ایک اہم حصہ درج ذیل ہے :- اس زمانہ میں ایک مسلمان کے لئے سب سے بڑی نصیحت یہی ہو سکتی ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرے۔اس وقت ہر شخص اپنے اپنے کام میں لگا ہوا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کی طرف بہت کم لوگوں کو تو جہ ہے۔سلسلہ احمدیہ کے باقی حضرت مرز اعلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔ع ہر کے در کار خود با دین احمد کاز نیست یعنی دنیا میں ہر شخص اپنے اپنے کام میں مصروف ہے لیکن محمدصلی الہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین روزنامه الفضل ربوه مورخه ، فروری ۹۵ ایو صفحه۔6