تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 376 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 376

٣٤٠۔۔صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اتنی بلند آواز سے نعرہ تکبیر کہا ہے کہ ممکن ہے بلکہ والوں کو پتہ لنگ جائے کہ تم کسی نیت سے یہاں آئے ہو۔انہوں نے کہا یا رسول اللہ جب تک ہمیں حقیقت کا صحیح طور پر پتہ نہیں تھا۔اس وقت تک ہم بھی اسے چھپانے کی کوشش کرتے تھے لیکن اب جب کہ حقیقت ہم پر واضح ہو گئی ہے ہم اُسے چھپا نہیں سکتے۔پس جب انسان کے اندر صداقت کے معلوم کرنے کی لگن پیدا ہو جاتی ہے تو وہ آپ ہی آپ صداقت معلوم کرتا رہتا ہے مجھے یاد ہے کہ نواب محمد دین صاحب مرحوم نے جب بعیت کی تو اس وقت ده ریاست مالیر کوٹلہ میں ملازم تھے اور کونسل آف سٹیٹ کے ممبر تھے۔بعیت کے وقت آپ نے کہا میں یہاں سے ریٹائر ہو جاؤں تو مجھے ملازمت کے لئے کسی اور ریاست میں جانا پڑے گا۔اس لئے آپ مجھے ابھی اپنی بیعت مخفی رکھنے کی اجازت دیں۔چنانچہ میں نے انہیں بیعت کو مخفی رکھنے کی اجازت دے دی ببعیت کے بعد وہ شملہ پہلے گئے۔مجھے بھی ان دنوں چند دنوں کے لئے تبدیلی آپ وہ ہوا کی خاطر شملہ جانے کا موقع ملا نواب صاحب نے مجھ سے کہا آپ روز روز کہاں شملہ آتے ہیں۔کہیں اور تو کوئی خدمت نہیں کر سکتا۔ہاں اتنا کر سکتا ہوں کہ بڑے بڑے لوگوں کو چائے پر بلا کہ آپ کا ان سے تعارف کرا دوں۔چنانچہ انہوں نے ایک دعوت کا انتظام کیا کہیں بھی وہاں چلا گیا۔انہوں نے بڑے بڑے آدمی وہاں بلائے ہوئے تھے۔یہیں اس انتظار میں تھا کہ کوئی اعتراض کرے تو میں اس کا جواب دوں کہ نواب صاحب کھڑے ہو گئے اور انہوں نے حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد اس طرح بات شروع کی کہ یہ میری خوشی کی بات ہے کہ امام جماعت احمدیہ یہاں تشریف لائے ہیں جو شخص کسی قوم کا لیڈر ہوتا ہے ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیئے وہ ہمیں دین کی باتیں سنائیں گے خواہ ہم مائیں یا نہ مانہیں ان سے ہمیں فائدہ پہنچے گا۔اس کے بعد وہ تقریر کرتے ہوئے یکدم جوش میں آگئے اور کہنے لگے اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے ایک بندہ کو مبعوث کیا ہے اور اس نے دعوی کیا ہے کہ میں خدا تعالی کی طرف مامور ہوں۔یہ دعوی کوئی معمولی دعوی نہیں۔اگر وہ اپنے اس دعوئی میں سچا ہے اور ہم نے اسے قبول نہ کیا تو لازما ہم خدا تعالیٰ کے مجرم ہوں گے اور اس کا عذاب ہم پر آئے گا۔اس لئے آپ لوگوں کو سنجیدگی سے اس کے دعوئی پر غور کرنا چاہیے۔جب نواب صاحب اپنی تقریر ختم کر کے بیٹھے گئے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ نے تو اپنی بیعت کو مخفی رکھنے کی اجازت