تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 375 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 375

۳۷۵ لگن پیدا کی جائے تو خود بخود ان کے اندر یہ خواہش پیدا ہوگی کہ وہ تمہاری باتیں سنیں اور جب کبھی تمہارا مبلغ یا امام یہاں آئے تو اس سے بھی ملاقات کریں اور اس کی باتیں سنیں پس یہاں کے احباب کو اپنی اس ذمہ داری کو نہیں بھلانا چاہئیے۔لاہور ایک اہم جگہ ہے اور اب اسے اور بھی زیادہ اہمیت حاصل ہو گئی ہے۔کیونکہ مغربی پاکستان کے ایک یونٹ بن جانے پر یہ اس کا دارالخلافہ آیا ہے۔اس وقت پاکستان میں کراچی سے اُتر کر لاہور اور ڈھاکہ کو جو پوزیشن حاصل ہے وہ کسی اور شہر کو حاصل نہیں۔اس لئے یہاں کی جماعت کے جو ذمہ دار لوگ ہیں، انہیں خصوصیت سے ان امور کی طرف توجہ کرنی چاہئیے۔دنیا میں انسان کی زندگی محدود ایام کی ہے۔اگر اس کو بھی ضائع کر دیا جائے تو دنیا میں انسان نے دوبارہ تو نہیں آنا موت کے آنے تک اس نے جو کچھ کر لیا سو کہ لیا۔اس کے بعد اعمال کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے اس لئے انسان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے اور اس مختصر وقت کو کسی صورت میں ضائع نہ کرے پہیں یہاں کے تمام احباب کو چاہیے کہ وہ اس امر کی طرف توجہ کریںاور اپنے دوستوں کے ساتھ سنجیدگی کے ساتھ باتیں کیا کریں اور اس طرز سے باتیں کیا کریں کہ ان میں سچائی معلوم کرنے کی لگن پیدا ہو جائے جب ان میں سچائی معلوم کرنے کی لگن پیدا ہو جائے گی تو جہاں بھی انہیں سچائی نظر آئے گی وہ اسے قبول کو لیں گے۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان کے اندر لگن پیدا ہو جائے کیونکہ جب کسی کے اندر لگن پیدا ہو جاتی ہے تو وہ کسی کے روکنے کی وجہ سے کہ کتا نہیں بلکہ وہ تحقیق حق کے لئے دوڑتا ہے اور خود اس کے متعلق سوالات کرتا ہے۔دیکھو مدینہ کے لوگ کلمہ آتے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بعض دفعہ انہیں ملنے کے لئے تشریف لے جاتے تھے اُن میں سے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جن پر آپ کی باتوں کا اثر ہوا اور انہوں نے واپس جا کر اپنے شہر والوں سے ان باتوں کا ذکرہ کیا۔چنانچہ اگلے سال اور زیادہ تعداد میں مدینہ کے لوگ مکہ آئے وہ مکہ کی گلیوں میں پھرتے رہے، مکہ والوں نے انہیں دھوکا میں ڈالنا چاہا اور حقیقت پر کئی پر دے ڈالے لیکن آخر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر ہی لیا۔آپ نے ان سے باتیں کیں اور ان باتوں کے نتیجہ میں مدینہ والوں نے دین کو قبول کر لیا لیکن پہلی دفعہ یہی فیصلہ ہوا تھا کہ شہر سے باہر نکل کر کسی علیحدہ جگہ ملاقات کی جائے کیونکہ وہ لوگ ڈرتے تھے کہ کہیں مکہ والے ان کی مخالفت نہ کریں لیکن جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باتیں کہیں اور ان پر حق کھل گیا تو انہوں نے بلند آواز سے نعرہ تکبیر بلند کیا ، رسول کریم