تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 377 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 377

لی تھی اور میں نے آپ کو اجازت دے دی تھی لیکن اس وقت آپ نے خود ہی اسے ظاہر کر دیا ہے۔انہوں نے کہا مجھے تقریر کرتے کرتے جوش آگیا تھا۔اس لئے میں ضبط نہیں کر سکا۔عرض دوستوں کو چاہیے کہ وہ تبلیغ کی طرف توجہ کریں۔اور دوسروں تک سنجیدگی سے اپنے خیالات پہنچائیں۔مجھے یاد ہے کہ پہلے پہلے جب میں لاہور آیا کرتا تھا تو گئی والی مسجد میں نمازہ ہوتی تھتی ہیں وقت اگلی صف میں جتنے دوست بیٹھتے ہیں اس وقت لاہور میں قریباً اتنے ہی احمدی ہوتے تھے۔لیکن اب جمعہ کی نماز میں بعض دفعہ یہاں پندہ پندرہ سو دوست جمع ہو جاتے ہیں۔بلکہ ان کی تعداد اس سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ممکن ہے آج بھی اس قدر لوگ موجود ہوں لیکن کھلی جگہ ہونے کی وجہ سے وہ زیادہ معلوم نہ ہوتے ہوں۔بہر حال جمعہ کی نمازہ میں اڑھائی اڑھائی سو کی تعداد میں سائیکل ہی ہوتے ہیں۔ابھی مجھے کسی نے بتایا ہے کہ پچھلے جمعہ کے موقع پر بارہ موٹریں اور ایک بڑی تعداد میں سائیکلیں ہی سائیکلیں جمع ہوگئی تھیں۔مغرض جب گمٹی والی مسجد میں نماز ہوتی تھی اس وقت جماعت کی تعداد بہت تھوڑی تھی لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اس کی تعداد بہت بڑھا دی ہے۔اب موجود، جماعت کو خیال کرنا چاہئیے کہ اس وقت پچاس ساٹھ احمدیوں نے اپنی زندگیوں کو سدھارا اور دو سروں تک اپنے خیالات کو سنجیدگی سے پہنچایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ صرف جمعہ کی نماز میں آنے والے احمدیوں کی تعداد ۵۰ سے بڑھ کر ۱۵۰۰ تک پہنچ گئی۔اگر تم بھی ان لوگوں کی طرح اپنی نہ منگیوں کو سدھارتے اور اپنے خیالات سنجیدگی سے دوسروں تک پہنچاتے تو تم پندرہ سو سے پینتالیس ہزار (۴۵,۰۰۰) بن جاتے۔لاہور کے شہر کو اللہ تعالٰی نے احمدیت کے ابتدائی زمانہ سے ہی تبلیغ کا مرکزہ بنایا ہے۔میں ابھی بھیر ہی تھا کہ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام لاہور تشریف لایا کرتے تھے۔ایک دفعہ آپ یہاں تشریف لائے۔میں بھی ساتھ تھا۔مسجد وزیر خاں کے قریب ایک دوست کے ہاں آپ کی دعوت تھی۔میری عمر اس وقت بہت چھوٹی تھی۔صرف سیر کی وجہ سے میں ساتھ آگیا تھا۔دعوت سے فارغ ہو کر جب ہم باہر نکلے تو دہلی دروانہ ہ سے نکلتے وقت اس زمانہ میں دائیں طرف ایک پیپل کا درخت تھا اس درخت کے پاس ہجوم بہت زیادہ تھا۔ہمیں دیکھ کر لوگوں نے گالیاں دینی شروع کر دیں۔اور بہت شور بلند کیا۔جب ہم پیپل کے پاس سے گزرے تو اس وقت جو لوگ جمع تھے اُن میں سے کسی نے کہا کہ تم یہ کہو کہ ہائے ہائے گویا مرزا صاحب فوت ہوگئے ہیں۔