تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 25
۲۵ اور بہن کی اولاد سے خاص محبت اور مروت کا سلوک ہمیشہ فرماتی تھیں۔جذیہ خلوص اور شکر گزاری میں ایک منفردانہ شان کی حامل تھیں۔اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ مجھے اگر کسی نے محبت سے پانی کا گھونٹ بھی پلایا ہے تو مجھے یہ بات نہیں بھولتی - جب بعض احباب یا خواتین کی خاص خاطر و مدارت فرمائیں تو اپنے بچوں سے بار بار کہتیں تمہیں معلوم نہیں انہوں نے تمہارے ساتھ کیسی کیسی نیکیاں کی ہیں اور ہمیشہ ان کے لئے دعائیں کرتی رہتی تھیں۔اس مرض الموت اور اس سے پہلے بھی یکی اکثر یہ دریافت کرتا تھا کہ اتاں جی کوئی تکلیف یا کر تو آپ کو نہیں تو فرماتیں بالکل نہیں اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے۔۔۔۔۔ہاں بے شک عمل کمزور ہیں مگر جس رحیم اور رحمان ہستی نے اس دنیا میں اتنے فضل فرمائے اس کی ذات سے یہ بھی یقین ہے کہ آخرت میں بھی اس کا رحم اور اس کی مہربانیاں میرے شامل حال رہیں گی۔کیسی تکلیف یا گھرا ہٹ کے وقت اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل تو تل رکھتیں اور کبھی مایوس نہ ہوتی تھیں اور فی الواقع اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ان کی ہر ضرورت کی تکمیل اپنے خاص فضل سے فرمائی اور اس کے بے شمار واقعات ہم نے اپنی آنکھوں سے روز مرہ دیکھے کہ کسی خواہش یا ضرورت کا اِ دھر اظہار کیا اُدھر اللہ تعالیٰ نے اس کو پورا کر دیا۔ساری عمر نهایت و قاره سیر منتہی اور قناعت کے ساتھ بیر کردی۔اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ان کو ملتی رہتیں مگر وہ سب کچھ اس کی راہ میں تقسیم کر انہیں اس آخری عمر میں اگر ہم ان کے جسمانی فرزند یا روحانی فرزند کوئی خاص مالی خدمت بجالاتے تو وہ رقم بھی فورا مستحق لوگوں میں تقسیم فرما دیتیں۔بعض اوقات ہم اپنی کمزوری سے یہ بھی عرض کرتے کہ یہ رقم تو آپ کے آرام، علاج یا لباس کے لئے تھی تو وہ فرماتیں مجھے اللہ تعالیٰ نے بہت کچھ دیا ہے کس کسی کی محتاج نہیں۔اگر تم یہ خدمت میری خوشی کے لئے کرتے ہو تو میں بھی اپنی خوشی پوری کر لیتی ہوں۔اکثر ان کی تعض