تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 26
MY روحانی بیٹیاں یا ان کی اپنی ہوئیں کوئی اچھا لباس شوق سے ان کی خدمت میں پیش کرتیں تو اکثر بغیر استعمال کے یا تھوڑے استعمال کے بعد کسی نہ کسی کو دے ڈالتیں اور اب وفات کے وقت آپ نے نہ کوئی پیسہ نہ زیور اور نہ ہی کوئی عمدہ لباس چھوڑا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل کے ساتھ ایک نہایت معقول ماہوار مستقل رقم کا انتظام آپ کے لئے فرما رکھا تھا۔صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے بھی آپ کے گزارے کا معقول انتظام تھا۔اس کے علاوہ سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود، جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ، جناب سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب اور ملک بشیر احمد صاحب آن کراچی اور بعض دیگر احباب مستقل طور پر ہر ماہ باقاعدگی کے ساتھ خدمت کرتے رہتے تھے اور اہلیہ صاحبہ میاں رالرحمن صاحب ڈائریکٹر انسپکشن لاہور بڑے اہتمام کے ساتھ ہمیشہ ان کے لئے لباس اور بہتر تیار کر کے پیش کرتیں یا بھجوا دیتی تھیں۔اسی طور پر ان کے بعض اور بھی روحانی اور جسمانی فرزند ان کی خدمات وقتاً فوقتاً کرتے رہتے۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اپنی جناب سے اجر عظیم عطا فرمائے “ لے آپ کی ایک بہو محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ (بنت حضرت مولانا شیر علی صاحب) کا بیان ہے کہ سترہ نوبر شاہ سے لے کر جب یکی اپنی شادی کے بعد حضرت اماں جی کے پاس آئی مجھے آپ کی زندگی کے آخری سانسوں تک آپ کے ساتھ شب و روز رہنے کی سعادت حاصل رہی۔اس تمام عرصہ میں میں نے آپ کو ایک اعلیٰ درجہ کی محبت کرنے والی ماں اور مشفق و مهربان ساس پایا۔شادی سے قبل میری طبیعت میں بعض اثرات کے ماتحت طبعاً ایک ڈر سا تھا اور بعض اوقات تو طبیعت میں اسی خوف کے ماتحت مجیب سی گھبراہٹ ہو جاتی کہ عام ساس اور بہو کے دنیا وی رشتوں کی طرح ہمارے تعلقات میں کہیں کوئی کبیدگی پیدا نہ ہو جائے لیکن۔۔۔۔له الفضل ۱۳ ظهور ۱۳۳۴ هش / ۱۳ اگست ۱۹۵۵ در صفحه ۱۳ هم