تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 24
سم سمر ضرورت مند کے حوالہ کر دیتی تھیں لیکن جب دوبارہ اور سہ بارہ سخت سردی کی وجہ سے اور آپ کے آرام کے خیال سے بستر آپ کے لئے مہیا کیا جاتا تو وہ بھی کیسی نہ کسی ضرورت مند کو اُڑھا دیتیں۔بارہ ایک بجے رات تک ضعیفوں، بیماری اور بچوں کو کھلانے پلانے اور کپڑا اڑھانے میں مصروف رہتیں۔خود اکثر اپنے ہاتھ سے چاول وغیرہ تیار کر واکر تقسیم فرمائیں اور پھر تین چار بجے رات سے ہی اسی تیاری میں دوبارہ مصروف ہو جاتیں۔ہر ایک مہمان سے نہایت خندہ پیشانی سے پیش آتیں۔غرض جہاں تک مہمان نوازی کا تعلق ہے آپکی ذات خود ایک مہمان خانہ تھی۔یہاں ربوہ میں آکر گو مکان وغیرہ میں اس قدر وسعت نہیں تھی پھر بھی حالات کے مطابق مہمانوں کو اپنے پاس ٹھر انے اور ان کی خاطر و مدارت کرنے میں بڑی خوشی محسوس کرتیں اور روزانہ آنے جانے والوں کی بھی کچھ نہ کچھ تو اضح ضرور کرتی تھیں اور جب تک کچھ کھلا پلا نہ دیتیں تسلی نہ ہوتی تھی۔نادار اور یتیم بچوں کی پرورش آپ کی زندگی کا محبوب ترین مشغلہ تھا کئی ایک یتیم اور نادار بچوں کی پرورش اور تعلیم و تربیت اپنے بچوں کی مانند کرتیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے متعدد افراد موجود ہیں جو کامیاب اور مخلصانہ زندگیاں گزار رہے ہیں۔ایسے بچوں کی پرورش اپنے بچوں کی طرح کرتیں یتیموں کی محبت اور پرورش کا آپ کو اس قدر خیال تھا کہ اس مرض الموت میں بھی جب یک نے دریافت کیا کہ کوئی خاص وصیت یا بات فرمانی ہو تو فرما دیں۔کہنے لگیں کوئی خاص بات تو نہیں لیکن ہاں یتیم بچی سعیدہ جو آب میرے پاس ہے اس کو ضرور پڑھا دینا اور اس کی اچھی تربیت کرنا۔۔۔۔تمام رشتہ داروں کا خاص خیال فرما تی تھیں اور ان کی خدمت کا جب موقع ملتا اس فرض کو بڑی بشاشت اور خوش اسلوبی کے ساتھ ادا فرمائیں اور کہتی تھیں یہ میرے خاوند کے عزیز اور رشتہ دار ہیں۔خود اپنے بھائیوں