تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 23
۲۳ - ساتھ فارسی میں گفتگو کر کے اپنا دل بہلاتے تھے۔۔۔۔۔حضرت اماں جی کا اندازہ گفت گو بھی بڑا دلچسپ اور بے تکلفانہ ہوتا تھا۔۔۔۔۔ہماری اتان جان مرحومه (یعنی حضرت سیدہ نصرت جہاں نوراللہ مرقدہا کے پاس حضرت ، تاں جی کا بہت آنا جانا تھا۔جب بھی وہ حضرت اماں جان کے پاس آئیں یا حضرت اماں جان اُن کے گھر جاتیں تو گویا محبت و شفقت کے جذبات سے مجلس گرما جاتی تھی۔حضرت اماں جان کی زندہ دلی اور مہمان نوازی اور شفقت اور غرباء پروری تو مشہور رہی ہے۔حضرت اماں جی بھی ان کے قدم پر بہت مہمان نواز اور تشفیق اور غریب پرور تھیں " سے ۳ - صاجزادہ میاں عبد السلام صاحب عمر نے اپنے ایک مضمون میں حضرت اماں ہی کے اخلاق وعادات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا :۔" مہمان نوازی، یتیم اور نادار بچوں کی پرورش ، صلہ رحمی ، خلوص اور شکر گزاری سادگی اور تو کل آپ کی سیرت کے نہایت ممتاز اور نمایاں پہلو تھے۔آپ کے ان اوصاف حمیدہ کی شہادت میں بے شمار واقعات آپ کے جاننے اور ملنے والوں کے دل پر ثبت ہیں جن کی یاد کبھی بھی محو نہیں ہو سکتی۔۔۔۔قادیان کی ساری زندگی میں عموماً آپ کا وسیع مکان ایک مستقل مہمان خانہ بنا رہتا تھا خصوصا جلسہ سالانہ کے موقع پر سینکڑوں خواتین اور ان کے بچے آپ کے ہاں بطور مہمان ٹھرتے اور آپ سب کی مہمان نوازی اور آرام کا خیال ایسی محبت انہماک محنت اور جوش کے ساتھ کرتیں کہ اس کی مثال ملنی محال ہے خصوصاً غرباء ضعیف العمر، بیمار اور بچے آپ کی توجہ کا خاص مرکز بنے رہتے تھے جلسہ کے ایام میں مشکل گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کچھ تھوڑا سا آرام فرما لیتی تھیں جس کا نام آرام رکھنا بھی شاید درست نہ ہو۔ایام جلسہ میں عموما آپ اپنا بستر وغیرہ تو پہلے ہی رکسی ل الفضل رضور ۱۳۳۴ امیش / ۱۷ اگست ۶۱۹۵۵ مت