تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 342
۳۴۲ سے کسی قسم کی گرانٹ نہیں لی جاتی تھی۔یہی نہیں بلکہ ہم نے کچھ رقم جمع کرنی بھی شروع کردی۔تقریباً تین سال بعد اللہ تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی کہ ہم اس قابل ہو گئے کہ مشن ہاؤس خرید سکیں۔مردویا ہر کے اندر کافی تلاش جاری رہی کہ کوئی مناسب پلاٹ مل جائے جہاں مشن ہاؤس تعمیر کیا جائے۔لیکن کافی تگ و دو اور حکومت سے بار بارہ درخواستوں کے باوجود کوئی خاص قطعہ دستیاب نہ ہو گا۔بہت پریشانی تھی۔شہر سے باہر خالی زمین مل سکتی تھی لیکن خیال تھا کہ غریب جماعت ہے کسی کے پاس بھی سواری موجود نہیں اگر شہر سے باہر مشن ہاؤس بنا لیا گیا۔تو عام نمازوں کا کیا ذکر جمعہ کے لئے بھی احباب نہیں پہنچ سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کا احسان ہوا کہ ایک روز ایک دوست بک شاپ پر آئے اور چند کتب خریدیں۔جاتے وقت کہنے لگے کہ میرا ایک مکان ہے جو فروخت کرنا چاہتا ہوں اگر تمہاری نظر میں کوئی گاہک ہو تو بتائیں۔میں نے کہا الحمد للہ ہم تو خود اس تلاش میں ہیں۔چنانچہ شہر کے عین وسط میں فوجی توپ خانہ کے بالکل سامنے یہ مکان دیکھا اور پانچ ہزار ڈالر میں سودا ہو گیا۔بلڈنگ ہماری ضرورت کے لئے مناسب تھی چنانچہ یہ مکان خرید لیا گیا۔اس کے پیچھے کچھ جگہ خالی پڑی تھی۔خاکسار نے ایک لبنانی مسلمان سے بات کی اور وہ اس بات پر رضامند ہو گیا کہ ہم اس کو یکصد ڈالر ماہوارہ ادا کرتے رہیں اور وہ چھ کمروں پرمشتمل دو منزلہ مکان تیار کر دے گا۔الحمد لله خاکسارہ کی روانگی سے قبل اس مکان کے اوپر کا حصہ مکمل ہو گیا اور اس لبنانی دوست کو تمام تر ادائیگی بھی کر دی گئی ہے +11 سیرت النبی کا پہلا کامیاب جلسہ بیریا میں سیرتالنبی کا سب سے میں کامیاب جلسہ چوہدری رشید الدین صاحب مبلغ انچارج لائبیریا کی نگرانی اور انتظام کے تحت ہمارجون عشاء کو منعقد ہوا۔جس میں احمدی احباب کے علاوہ دیگر دوستوں نیز نائجیریا کی بعض سریہ اور دہشخصیتوں نے شرکت کی۔صدارت کے فرائض لائبیریاکے سابق وزیر خارجہ جناب مومولوڈو کلی MOMOLU-DUKULY نے انجام دیئے۔موصوف پریذیڈنٹ ٹب مین مرحوم کے زمانہ میں لیے عرصہ تک ملک کے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں آپ کا تعلق ایک ایسے خاندان سے سے غیر مطبوعہ تحریر مولوی مبارک احمد صاحب ساقی۔