تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 341 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 341

احمدیت کو اتنی شوکت عطا کر دی ہے کہ ملک کے پریذیڈنٹ نے ایک احمدی مبلغ کو خصوصی مہمان کی حیثیت سے مدعو کیا ہے۔محترم امام صاحب نے اپنے ہفت روزہ دورہ میں ۲۶ جولائی کی تقریب آزادی میں شرکت کرنے کے علاوہ رجس میں صدر ٹب بین نے آپ کی آمد کا خاص طور پر ذکر کیا ) متعدد اہم دینی و قومی اجتماعات میں بھی شمولیت کی چنانچہ ۲۴ جولائی کی شام کو جبکہ حج فلم دکھلانے کا انتظام تھا۔آپ نے فلسفہ حج پر مختصر تقریر کی۔۲۵ جولائی کی شام کو جماعت احمدیہ کی مجلس عاملہ سے خطاب کیا۔۲۶ جولائی کو خطبہ مجتہ دیا۔شام کو ٹیلیویژن کے نمائندے نے آپ کا ایک انٹرویو ٹیلی کاسٹ کیا جس میں آپ نے اسلام کے متعلق برجستہ اور بر موقع جواب دیئے جو دلچسپی سے گنتے گئے۔۲۷ جولائی کو مسلمانان لائبیریا نے آپ کے اعزانہ میں پر تکلف عصرانہ دیا۔مسلم کانگرس آف لائبیریا نے آپ کو ایڈریس پیش کیا جس کا آپ نے موثر رنگ میں جواب دیا بعد ازاں صدر ٹب میں نے تقریر فرمائی جس میں باوجود عیسائی ہوتے کے واضح الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق قرار دیا۔جس پر مسلمانوں میں خوشی کی زبردست لہر دوڑ گئی ہے اس موقع پر مولوی مبارک احمد صاحب ساقی کے علاوہ مختلف ممالک کے سفراء بھی موجود تھے بھاری تقریب ٹیلیویژن پر دکھائی گئی۔ریڈیو اور اخبارات میں بھی اس کا خوب چرچا ہوا۔خود پریذیڈنٹ صاحب نے مسلمان گورنر کو اس کی کامیابی پر مبارک باد دی۔۱۲۹ جولائی آپ کے قیام کا آخری دن تھا۔اس روز آپ نے شام کو منرو ودیا کے گورنمنٹ ہائی سکول کے ہال میں " یورپ میں اسلام کی مستقبل کے موضوع پر لیکچر دیا جس کے بعد آپ ساڑھے سات بجے شام بذریعہ طیارہ عازم اگر ہو گئے۔آپ کو الوداع کہنے والے معززین میں ڈیپارٹمنٹ آف سٹیٹ کا نمائندہ بھی تھا ہے ۱۰۔مولوی مبارک احمد صاحب ساقی کا بیان مشن ہاؤس کیلئے عمارت کی خرید تاتر مولوی مبارک ہے کہ ہر " ہماری بک شاپ بفضل خدا اس قدر ترقی کہ چکی تھی کہ ہمارا مشن خود کفیل ہو گیا اور مرکز نه غیر مطبوعہ تحریر جناب بشیر احمد خان صاحب رفیق سابق امام مسجد لنڈن۔له الفضل ۲۴ ستمبر ۱۹۶۷ ۶ صفحه ۴۳ ر مضمون مولوی مبارک احمد صاحب سانتی)۔