تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 317
۳۱۷ مبلغ یوگنڈا کریم حکیم محمد ابراہیم صاحب نے اس سال ملک کے ممتاز شیوخ کو پیغام احمدیت پہنچایا۔فرقہ بکوٹو کے شیخ اور ڈیڑھ صد مساجد کے نگران شیخ زید بھی زیر تبلیغ رہے۔انہوں نے احمدیہ لٹریچر کا شوق سے مطالعہ کیا۔اسی طرح شیخ ابراہیم نے مخالفت کے باوجود جماعت کے لٹریچر کا مطالعہ کیا۔شیخ علی کو لیا بھی احمدیت سے متاثر ہوئے شیخ شعیان کر ونڈے نے جماعت احمدیہ کی دینی خدمات کو سراہتے ہوئے یہاں تک کہا کہ ہمارے شیوخ نے ہمیں تباہ کر دیا ہے۔آؤ ہم سب احمدیوں کے ساتھ مل جائیں۔ایک مخلص احمدی شیخ عبداللطیف صاحب کی بہت شدید مخالفت ہوئی مگر وہ احمدیت پر ڈٹے رہے۔کمپالہ سے دس میل دور جنجہ روڈ پر ایک نئی جماعت کا قیام عمل میں آیا۔یہاں ایک پلاٹ مقامی جماعت کے ذریعہ تین ہزار شلنگ میں حاصل کیا گیا۔یہ رقم یوگنڈا کی جماعت نے دی۔یوگنڈا کے شاہی خاندان کے فرد پرنس بدر و اور امریکی رسالہ لائف LIFE کے نمائندہ کو قرآن مجید کے سواحیلی ترجمہ کا تحفہ دیا گیا۔یو گنڈا کے سالانہ اجتماع میں غیر احمدی معززین بھی دُور دُور سے تشریف لائے۔اس سال یوگنڈا میں ۲۹ افراد داخل سلسلہ ہوئے لیے پچھلے سال دار السلام میں جماعت کی مخالفت تیز تھی جس میں اس سال نمایاں کمی آگئی تعلیم یافتطیق مدارج رہا۔بعض شیوخ کے رویہ میں بھی خوشگوار تبدیلی ہوئی رشیخ بھی اپنے پوتے کو مکرم مولوی عبد الکریم صاب شرتاً مبلغ سلسلہ کی خدمت میں لائے اور کہنے لگے میرا اپنا بیٹا ہے علم رہا ہے، اسے نہیں آپ کے سپرد کرتا ہوں۔آپ اس کو پڑھائیں۔شیخ علی مرے MZE جو جماعت کی مخالفت میں پیش پیش تھے ایک روز کہنے لگے کہ میں سمجھتا ہوں کہ آپ ہمیں عیسائیت کے خلاف متحد ہو جانا چاہیئے۔دوران سال مولوی صاحب موصوف نے چار ہزار میل کا تبلیغی سفر کر کے پیغام حق پہنچایا اور دوری کئے بسفروں کے دوران لٹریچر کی اشاعت بھی ہوئی تین ہزار پمفلٹ مفت تقسیم کئے گئے۔دو ہزار سے زائد کا لٹریچر فروخت ہوا۔سواحیلی اخبار مانیر یا مونگر اور دوسری جگہوں کے چیدہ چیدہ افراد کو بھجوایا جاتا رہا، سات سو افراد داخل سلسلہ ہوئے۔دار السلام میں جماعت نے خانہ خدا اور مشن ہاؤس کے لئے ایک موزوں پلاٹ لے رکھا تھا ۱۹۵۶ء له الفضل ۱۳ نومبر ۶۵ ۴ رخلاصہ رپورٹ کرم مولوی نور الدین ما میر سیکرٹری احمد یشن مشرقی افریقی )۔