تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 316
ہندوستان اپنے قدیم مذہب کو قائم رکھنے کے لئے پر دبہت بھجواتا رہتا ہے۔پاکستان جو کسی زمانہ میں ہندوستان کا حصہ تھا۔لیکن آپ ایک آزاد ملک ہے۔اشاعت اسلام کے لئے اسلامی مبلغین بھجوا رہا ہے۔یہ بات قارئین کے لئے اور بھی حیران کن ہوگی کہ یہاں ان کا کامیاب مبلغ کوئی ہندوستانی یا پاکستانی نہیں بلکہ ایک انگریز ہے جو اپنے آپ کو بشیر احمد آرچرڈ کہتا ہے (ترجمہ) مشرقی افریقہ مشن مبلغ مشرقی افریقہ مولوی محمد نور صاحب نے تو ماہ کسموں اور تین ماہ نیروبی میں گزارے۔اس عرصہ میں دو ہزار تین سو میل کا سفر کیا۔TRUTH WHY ISLAM تین سو افراد کو زبانی تبلیغ کی۔دو ہزار پمفلٹ ، دو سو کتب اور چار سو رہ دو ہزار پمفلٹ ، دو سو کتب اور چار سو رسائل تقسیم کئے خطوط لکھے۔چار تقاریر کیں۔انشتی مضامین لکھے۔آپ کی مساعی کے نتیجہ میں ۳۲ افراد داخل سلسلہ ہوئے۔آپ نے اس سال خصوصیت سے ملک کے مختلف مذہبی حلقوں میں عربی ، انگریزی ، گجراتی اور سواحیلی لٹریچر تقسیم کیا۔اور عرب بھائیوں کو جماعت دمشق کا عربی لٹریچر پیش کیا۔اخبار ٹروتھ نائیجریا - البشري (فلسطین) کی اشاعت کی کینیا کالونی کے پچاس پادریوں کو رکیوں اسلام ؟) اور دیگر لٹریچر بھیج کر اتمام محبت کی۔نیروبی کے ایک یورپین پادری صاحب سے تین گھنٹے تک آپ کی مختلف مسائل پر گفتگو ہوئی۔دوسری ملاقات میں وہ ایک اور پادری صاحب کو ساتھ لائے جو جنوبی افریقہ سے آئے تھے۔آپ نے انہیں بھی پیغام حق پہنچایا اور انگریزی لٹریچر دیا۔آپ کی تبلیغی مساعی سے افریقینوں کو متاثر دیکھ کر پادری صاحبان جماعت کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے مگر اس کا اٹھا اثر ہوا۔افریقنوں کو تحریک احمدیت سے متعلق مزید دلچسپی پیدا ہو گئی۔کہ سیمس کی چھٹیوں میں بہت سے عیسائی کسو مو ٹانگا نیکا اور کینیا سے آئے۔جن سے آپ نے کفارہ تثلیث ، معجزات مسیح اور آمدثانی کے بارہ میں تبادلہ خیالات کیا۔عیسائیوں کے علاوہ آپ نے ہندووں کو بھی ملفوظات حضرت مسیح موعود علیا تمام احدیت کا پیغام ارسالی اصول کی فلاسفی میزبان گرانی دی یکم مولوی عنایت اللہ صاحب خلیل نے اپنے حلقہ میں دسمبر کے وسط میں دورہ کیا۔وہاں ۲۱ افراد داخل سلسلہ ہوئے ہے له بحواله روزنامه الفضل ۱۲ جولائی ۱۹۵۵ ص۲ که روزنامه الفضل اور مارچ ، ۱۸/۱۵ جولائی ۵ رپورٹ مریم موں نام منصور صابه مبلغ مشرقی افریقہ)