تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 20
کی طرح ہے کالے بارچ شاہ کی بیعت اولیٰ کے دوران آپ لدھیانہ میں تھیں اور جیسا کہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی نے لکھا ہے :- 11 حضرت امال جان ( مَتَّعَنَا اللهُ بِطُولِ حَيَاتِهَا ) کے سوا وہ سب سے پہلی خاتون ہیں جن کو شرف بیعت حاصل ہوا۔حضرت کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے رجسٹر میں ان کی تاریخ بیعت ۲۵ مارچ ۴۱۸۸ نمبر ۶۹ پر درج ہے ا سکے حضرت مولانا نورالدین (خلیفہ اسیح الاوّل) اگست شاہ میں ریاست جموں کی ملا انت ترک کرنے کے بعد اپنے آبائی وطن بھیرہ میں تشریف لے آئے اور شاہ کی پہلی سہ ماہی میں آر مستقل طور پر ہجرت کر کے قادیان آگئے تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے آپ کو مع اہل و عیال" الدار" ہی میں جگہ دی اس کے بعد آپ کا مطلب تیار ہوا اور پھر وہ مکان بنا جہاں اب مہمان خانہ کی قدیم عمارت ہے۔حضرت مولانا نورالدین پہلے اس جگہ منتقل ہو گئے بعد ازاں آپ نے مطابے کے شمالی جانب ڈھاب کے سامنے ایک وسیع مکان بنوایا اور پھر اسی مکان میں رہائش پذیر ہو گئے شیع حضرت اماں جی اُن خوش قسمت خواتین میں سے تھیں جنہیں حضرت مسیح موعود کے زمانے میں ہی نظام الوصیت سے وابستہ ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔نظارت ے مکتوبات احمدیہ جلد پنجم نمبر ۲ صفحه ۶۸۱۶۷ حیات احمد جلد سوم صفحه ۱۱۵ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی، مطبوعہ اسلامی پریس حیدرآباد دکن - اگست ۱۹۵۷ء - سلسلہ کے ان ابتدائی ایام میں آپ کا مطلب ہی بطور مہمان خانہ استعمال ہوتا تھا جہاں الدار کے علاوہ آنے والے مہمان بکثرت قیام فرماتے تھے۔چنانچہ حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب سابق مستند گورا ند نه مل ) پہلی بار وارد قادریان ہوئے تو آپ اسی مطب میں مقیم ہوئے تھے۔(الحکم ۱۴ جنوری ۱۹ صفحه) ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحه ۸