تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 19 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 19

19 الفاظ میں اُن کا ذکر کیا اور تحریر فرمایا کہ :- " اگر چہ حضرت موصوف اس عاجز کے شروع سلسلہ بیعت سے پہلے ہی وفات پاچکے لیکن یہ امران کے خوارق میں سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے بیت اللہ کے قصد سے چند روز پہلے اس عاجز کو ایک خط ایسے انکسار سے لکھا جس میں انہوں نے در حقیقت اپنے تئیں اپنے دل میں سلسلہ بیعت میں داخل کر لیا ؟ حضرت اماں جی صفغر می بیگم کی شادی اپنے والد بزرگوار کے وصال کے بعد مارچ ۱۸۸۹ء میں ہوئی سید نا حضرت مسیح موعود نے آپ کو حضرت مولانا نور الدین بھیروی کی زوجیت کے لئے منتخب فرمایا اور جانبین کو تحریک فرمائی اور حضرت مولوی صاحب کی برات کے ساتھ لدھیانہ بھی تشریف لے گئے لیے پھر قادیان سے آپ کو بذریعہ مکتوب ارشاد فرمایا کہ - " آپ بھی دعا میں مشغول رہیں۔نئی بیوی کی دلجوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے۔مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اول درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں اور اللہ جلشانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل و کرم سے ان سے آپ کی صافی محبت تعشق پیدا کر دے کہ یہ سب امور اللہ بشانہ کے اختیار میں ہیں۔اب اس کے نکاح سے گویا آپ کی نئی زندگی شروع ہوئی ہے اور چونکہ انسان ہمیشہ کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔اس لئے نسلی برکتوں کے ظہور کے لئے اب اسی پیوند پر امیدیں ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے لئے یہ بہت مبارک کرے۔میں نے اس محلہ میں خاص صاحب اسرار واقف لوگوں سے اِس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے کہ بالطبع صالحہ ، عفیفہ وجامع فضائل محمودہ ہے اس کی تربیت تعلیم کے لئے بھی توجہ رکھیں اور آپ پڑھایا کہ ہیں کہ اس کی استعدادیں نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہیں اور اللہ جل شانہ کا نہایت فضل اور احسان ہے کہ یہ جوڑ بہم پہنچایا ورنہ اس قحط الرجال میں ایسا اتفاق محالات له الجبر روایات غیر مطبوعہ جلد ، صفحه ۴، ۵ ( از حضرت پیر افتخار احمد صاحب) حیات احمد جلد سوم صدا ( از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی )