تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 301
٣٠١ ہی پوری کی جائے گی۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی تقریر کے دوران میں تختہ سیاہ پر سامعین کو مختلف اشکال کے ذریعہ یہ مجھایا کہ ایٹمی فارمولا سے کس طرح حسب ضرورت کام لیا جا سکتا ہے۔کس طرح اٹیم کو توڑا جا سکتا ہے اور کس طرح اس سے طاقت حاصل کر کے کارخانے ، فیکٹریاں اور دوسری روز مرہ کی ضروریا میں کام لایا جا سکتا ہے۔آپ نے بعض اصحاب کے سوالات کے جوابات میں فارموں کی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی۔آپ نے کہا برطانیہ میں ہوا سو یونٹ فی کسی طاقت استعمال کرنے پر ۲۲ سو ڈالر آمدنی۔شام و لبنان اور ترکی ہیں۔۳ یونٹ پر پہا سو ڈالر آمدنی اور پاکستان میں ہم یونٹ پر ۵۰ ڈالر فی کس آمدنی کا تخمینہ ہے۔اس کے علاوہ آپ نے ہائیڈروجن ایٹم کے سلسلے میں بھی وضاحت کے ساتھ اپنے تجربات کا نچوڑ بتایا۔آپ نے انگریزی زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ روس میں ہائیڈروجن ایٹم سے متعلق بہت زیادہ کوشش سے تحقیقات جاری ہے کیونکہ جہاں یورینیم کے حصول میں مختلف قسم کی دقتیں پیش آتی ہیں وہاں ہائیڈ روجین ایٹم کی تیاری میں صرف پانی سے کام لیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالسلام کا تعارف کراتے ہوئے صدر جلسہ شیخ یوسف شاہ بیرسٹرایٹ لاء نے بتا یا کہ ڈاکٹر صاب جھنگ کے ایک متوسط و معزز گھرانہ کے ہونہار فرزند ہیں۔آپ نے میٹرک۔بی اے اور ایم اے میں پنجاب یونیورسٹی اور پی ایچ ڈی میں کیمرج یونیورسٹی کے سابقہ ریکارڈ کو مات کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب پہلے اور واحد ایشیائی ماہر ریاضی دان ہیں جنہوں نے مغرب کے شہرہ آفاقی سائنس دان مسٹر آئن سٹائن کے ساتھ کام کیا ہے۔ڈاکٹر صاحب کی عمر تقریباً ۳۳ ، ۳۴ سال ہے اور آپ جھنگ کے ایک ریٹائرڈ ہیڈ کلرک محکمہ تعلیم کے صاحبزادے ہیں۔آج کل آپ کیمبرج یونیورسٹی میں سائنس کے لیکچرار اور بین الاقوامی ایٹم برائے امن کانفرنس جنیوا کے سیکرٹری ہیں۔ڈاکٹر موصوف کے متعلق کہا جاتا ہے کہ آپ دنیا کے چیدہ دماغوں میں سے ایک بہترین دماغ کے مالک ہیں۔یہ تقریب آپ کے اعزاز میں شیخ ایم بشیر احمد اختر و ایجنٹ بر ماشیل وسٹر نور سلطان ایڈووکیٹ جھنگ کی طرف سے منعقد کی گئی تھی جو قریباً ۲۴ گھنٹے جاری رہتی۔ته صاحبہ کے دفتر الجنہ اماءاللہ کراچی کا افتتار اور ستمبر 1909ء کو حضرت سعید کر کے دفتر کا با قاعده ہاتھوں سے لجنہ اماءاللہ افتتاح عمل میں آیا۔اس تقریب پیر لجنہ کراچی کی ویزیٹر ٹریک VISITORS BOOK پر حضرت نے امیر جماعت احمدیہ ضلع جھنگ سه روز نامه تسنیم " لاہور ۱۴ ستمبر ۱۹۵۵، ص۲