تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 299
۲۹۹ گیا۔اس موقع پر ان پر اتمام محبت کی گئی انہوں نے سوچنے کا وعدہ کیا بلہ مولانا صاحب نے یہ یاد گار مقالے ۳۰ اکتوبر ۱۹۵۵ء کو ” بہائیت کے متعلق پانچ مقالے" کے عنوان سے شائع کر دیئے اور ان مقالات کے بعد بطور نمونہ ایک اور باب کا بھی اضافہ کیا جس میں قرآنی آیات سے تعلق بہائی صاحبان کی مغالطہ انگیزیوں کا مسکت و مدلل جواب تھا۔مولانا عبد الماجد صاحب دریا آبادی ایڈیٹر صدق جدید لکھنو نے اس کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا :۔کتاب کے مصنف "احمدی ہیں اور کتاب احمدیت ہی کے نقطہ نظر سے لکھی گئی ہے۔اس لئے اس میں مناظرانہ رنگ جھلکنا قدرتی ہے۔تاہم بہت سی پر مغز باتیں بھی بہائی مذہب و شریعت سے متعلق ان صفحات میں بھی جاتی ہیں۔14 استید ابراہیم عباس فضل اللہ جو سوڈان کے آنریری مبلغ احمدیت سوڈان کا انتقال در اسبلت خرطوم کے باشندہ تھے اور سوڈا میں آنریری طور پر تبلیغ احمدیت کے فرائض انجام دے رہے تھے۔اس سال ۲۸ اگست ۱۹۵۵ء کو وفات پا گئے۔مرحوم نے ۲۲ سال کی عمر میں ۲۴ نومبر ۹۴ائے کو احمدیت قبول کی اور پھر حضرت مصلح موعود کی تحریک پر لبیک کہتے ہوئے بغرض تعلیم ۳ مارچ ۱۹۵۶ء کو پاکستان آئے اور ربوہ میں تعلیم پانے کے بعد ۱۴ رمٹی سے کو اپنے وطن کو لوٹے اور پہلے خرطوم میں ایک کمپنی میں کام شروع کیا اور ساتھ ہی سلسلہ احمدیہ کے لٹریچر کی قیم اور زبانی تبلیغ کا سلسلہ بھی جاری کیا۔انہاں بعد اپنی الگ تجارت قائم کر لی اور چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ احمدیت مسقیم حیفہ کو لکھا کہ اب نہیں بہت آزادی سے پیغام احمدیت پہنچا سکتا ہوں۔لیکن افسوس زندگی نے وفا نہ کی اور آپ ۳۷ سال کی عمر میں اپنے مولیٰ کریم سے جاملے۔استید ابراہیم عباس کا اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر محض دینی تعلیم کی خاطر پاکستان میں آنا اور پھر آنریری طور پر تبلیغ احمدیت کرنا اخلاص کا بہترین نمونہ ہے جو بلا دھر میہ کے احمدی نوجوانوں کے لئے ہی نہیں بہائیت کے متعلق پانچ مقالے از مولانا ابوالعطاء صاحب صفحه تک ۳ ت "صدق جدید لکھنو مورخه ۱۳۱ اگست شهداء بجواله بدر تے اکتوبر ۱۹ ، صفحه ۲۵۔