تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 298 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 298

۲۹۸ اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے سرکردہ بہائیوں سے گفتگو کے بعد بہائیوں پر اتمام حجت کے لئے پانچ مقالے سپرد قلم فرمائے۔یہ پُر مغز مقالے ۱۷ ، ۱۸ ،۲۰،۱۹ ، اور ۲۲ اگست ۱۹۵۵ء کو آپ نے عام اجلاسوں میں پڑھے اور ہر مقابلے کے بعد بہائی صاحبان کو سوالات کا موقع بھی دیا۔اس اہم واقعہ کی تفصیل مولانا ابو العطا صاحب کے قلم سے درج ذیل کی جاتی ہے فرماتے ہیں :- امسال موسم گرما میں مجھے تین مہینے کے لئے کوئٹہ جانے کا اتفاق ہوا۔کوئٹہ میں بہائیوں کی ایک مختصر سی جمیعت ہے۔مگر یہ لوگ اپنے پروپیگنڈے اور وسوسہ اندازی میں بہت ہوشیار ہیں۔مجھے بتایا گیا کہ بہائی صاحبان نے مشہور کہ یہ کھا ہے کہ کوئی عالم ہمارا جواب نہیں دے سکتا، نہیں نے ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ توفیق دے تو اس عرصہ قیام میں احباب کو بہائیت کے متعلق معقول واقعیت بہم پہنچائی جا اور بہائیوں کے تمام اعتراضات کا قلع قمع کیا جائے۔بعض احباب جماعت کی معیت میں کہیں بہائی ہاں اور بہائی لائبریری میں گیا۔ہم نے اس ہال میں جو ایک غیر معمولی کمرہ ہے تین چار سرکردہ بہائیوں سے گفتگو کی اور میں نے یہ تجویز پیش کی کہ ہم بہائیت کے متعلق چند تحریری مقالے یہاں پڑھیں گے۔بہائی اور دوسر احباب سنیں اور مقالہ ختم ہونے پر مناسب وقت سوال و جواب کے لئے رکھ لیا جائے۔اس طرح سے فریقین کے دلائل سامنے آجائیں گے اور اعتراضات کے جواب ہو جائیں گے۔بہائی سیکرٹری صاحب نے کہا کہ تحریریں طور پر یہ تجویز آجائے تو اپنی محفل میں پیش کر کے جواب دے سکیں گے۔چنانچہ ہماری جماعت کی طرف سے پھر تجویز لکھ کر بھیجی گئی مگر بہائیوں کی طرف سے انکار میں جواب آ گیا۔1A, 16 لي آخر ہم نے فیصلہ کیا کہ بہائیوں کو عام دعوت دے کہ یہ مقالے احمدیہ مسجد کوئٹہ کے احاطہ میں پڑھے جائیں۔چنانچہ بذریہ تحریری اعلان انہیں اطلاع دی گئی اور پورا پروگرام بھیج دیا گیا۔یہ پانچ مقالے ۱۷ ۱۸ ۱۹ ۲۰ اور ۲۲ / اگست ۹۵۹ ید کو پڑھے گئے۔اس میں احمدی احباب کے علاوہ سنی اور دوسرے مسلمان احباب نے بھی شرکت فرمائی مستورات کے لئے پردے کا انتظام تھا۔چند بہائی صاحبان بھی آتے رہے۔ہر مقالہ کے بعد انہیں سوالات کا موقع دیا جاتا رہا۔اچھے ماحول میں سلسلہ سوال وجواب جاری رہا اور حاضرین پر حق واضح ہو گیا۔بہائیوں کی طرف سے بعض اوقات تین تین اصحاب یکے بعد دیگرے سوالات کرتے رہے سب کے تفصیلی جواب حاضرین کے گوش گزار کئے گئے۔ان پبلک اجتماعات کے علاوہ جناب شیخ محمد اقبال صاحب تاتیمہ کی طرف سے بہائی سیکرٹری کو محدود اصحاب کی موجودگی میں چائے پر بلایا