تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 294
۲۹۴ کر نال میں قدیم نہ رکھو یا اگر ء کے فسادات سے خوف زدہ ہو کہ درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے تمام سجادہ نشین، مجاور اور جاروب کش دہلی سے بھاگ جاتے اور کوئی شخص بھی اس درگاہ میں نہ یہ بہتا تو کیا اس درگاہ یعنی ایک مذہبی معاہد کو کسٹوڈین کی ملکیت میں دیا جا سکتا تھا۔یعنی اگر ان دونوں صورتوں میں کسٹوڈین کو جائیداد پر قبضہ کرنے کا حق حاصل نہیں تو پھر قادیان کی احمدی جماعت جو خالص مذہبی جماعت ہے، کی جائیداد کیونکہ کسٹوڈین کے قبضہ میں رہ سکتی ہے اور کیوں اسے واپس نہ کیا جائے۔جبکہ احمدی جماعت کے لئے قادیان کی وہی پوزیشن ہے جو سنیوں کے لئے درگاہ حضرت خواجہ نظام الدین ولیاء کی اور قادیان میں تو دو سو کے قریب احمدی اپنی جان کو تھیلی میں رکھ کہ ثابت قدم اور موجود رہے ، قادیان کے شرنارتھیوں کے ساتھ ہر شریف انسان کو ہمدردی ہونی چاہیئے کیونکہ یہ لوگ صاحب جائیدا تھے اور تباہ ہو کر پاکستان سے ہندوستان آئے اور ان کو نا قابل برداشت اور نا قابل بیان مصائب اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر ان شرنارتھیوں کی امداد کی صورت یہ ہے کہ ہندوستان سے پاکستان جاچکے مسلمانوں کی جائیداد میں سے ان کو جائیداد دی جائے اور ان کی کسٹوڈین کے فنڈ میں سے نقد روپیہ کی امداد کی جائے۔ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اور قادیان کے شرنارتھی دونوں اس مسئلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں اور احمدی جماعت کی جائیداد ان کو واپس کی جائے کیونکہ احمدی جماعت مذہبیا ہر اس حکومت کی وفا شعار ہے جو حکومت بر سر اقتدار ہو۔یعنی یہ لوگ حکومت کے خلاف کسی سیاسی تحریک میں حصہ نہیں لے سکتے خالص مذہبی جماعت ہے اور ان کے ساتھ کینہ اور نبض کا سلوک کرنا انصاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔دریاست دیلی شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب سجادہ نشین حضرت وفات خواجہ حسن نظامی حصاد بلوی نظام الدین اولیاء رولادت ۲۵ دسمبر شهداء، وفات ا، جولائی ۱۵ء) جو بر صغیر ہند و پاک کے مشہور مذہبی راہنما اور اردو کے قدیم اور صاحب طرز ادیب تھے اس سال انتقال کر گئے۔خواجہ صاحب عربی، فارسی، اردو اور ہندی کے بہت بڑے سکالر تھے۔ارہ میں انہوں نے مصر اور شام اور حجاز کا سفر کیا ، یہ سفر نامہ نعیم ہونے کے باوجود ہاتھوں ہاتھتے پیکا۔اس کے بعد آپ نے غدر عشاء کے متعلق متعدد کتابیں لکھیں جو اس پر آشوب زمانہ کی تاریخ کا ے ہفت روزہ " پدر " قادیان ۱۴ جولائی ۲۰۶۱۹۵۵