تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 293
۲۹۳ 鳙 ریاست میں بھیجی ہے جو اس سمجھانے ہندوستان کی مرکزی گورنمنٹ کو بھیجی۔اس میموریل میں خوش کی گئی ہے کہ قادیان کی احمدی جماعت کو وہ جائیداد واپس نہ کی جائے جس پر شرار تھی اڑ سے قابض ہیں اور جس کو خالی کرنے کے لئے حکومت نے انھیں حال ہی میں حکم دیا ہے۔قادیان کے احمدیوں کی پوزیشن یہ ہے کہ جب ۱۹۴۷ء میں فسادات ہوئے تو ان کا زیادہ حصہ قتل و خون ریزی اور فنڈہ پن سے خوف زدہ ہو کہ پاکستان چلا گیا۔مگر دو سو کے قریب احمدیوں نے جن کو آب جاں نثار درویش کہا جاتا ہے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اور بڑے بڑے خطرہ سے بے نیاز ہوتے ہوئے فیصلہ کیا کہ یہ اپنے اس مذہبی ہیڈ کوارٹر کو نہ چھوڑیں گے کیونکہ یہاں ان کے بانی مذہب حضرت مرزا غلام احمد اور دوسرے مذہبی لیڈروں اور مشاہیر کے مقبرے اور تاریخی یاد گاریں ہیں چنانچہ دو سو جاں نثار درویش پاکستان نہ گئے اور انہوں نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر خطرہ کو لبیک کہا حالانکہ اس زمانہ میں مشرقی پنجاب میں مسلمان ہونا یا مسلمان کہلانا ایک سنگین مجرم تھا جس کی سزا غنڈوں کے ہاتھوں سے قتل اور خون ریزی سے کم نہ تھی۔یہ واقعات ۱۹۶ ء کے ہیں۔اس کے بعد جب اس صوبہ میں کچھ سکون اور امن ہوا تو یہاں کی احمدی جماعت نے حکومت سے درخواست کی کہ ان کی جائیداد (جس پر شرنار تھی قابض ہیں ) اور روپیہ (جو بنکوں میں مجمع تھا ، ان کو واپس کیا جائے چنانچہ احمدیوں کی بہت بڑی جد وجہد کے بعد مرکزی گورنمنٹ نے حکم دیا کہ چونکہ یہ روپیہ اور جائیداد ایک مذہبی ٹرسٹ کی ملکیت ہے یہ کسی کی ذاتی ملکیت نہیں۔اس جائیداد کو کسٹوڈین کے قبضے میں رہنا خلاف انصاف ہے۔گورنمنٹ کے حکم سے بنکوں نے تو روپیہ ادا کر دیا مگر وہ تتر تاریخی ہو اس جائیداد پر قابض ہیں اس مقبوضہ جائیداد کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور یہ میموریل بھی اس غرض کے لئے ہی گورنمنٹ کو بھیجا گیا ہے کہ یہ جائیداد کسٹوڈین پراپرٹی قرار دی جائے اور جائیداد کو شہر تار بھنیوں سے خالی نہ کرایا جائے۔احمدیوں کی اس جائیداد کے متعلق بہت بڑا سوال اصول کا ہے۔مثلاً ایک مسلمان کرنال کا رہنے والا تھا 2 ایہ کے فسادات سے خوف زدہ ہو کہ یہ بمبئی چلا گیا۔یہ بھی بھی پاکستان نہیں گیا اور ہمیشہ ہی ہندوستان میں رہا۔تو اگر یہ مسلمان آج اپنے وطن کو نال جا کہ وہاں اپنی جائیداد میں آباد ہونا چاہتا ہو تو کیا اس شخص کو صرف مسلمان ہونے کے تجرم اور اس کے اپنی جان بچا چلے جانے کے گناہ کی یہ سزا دی جا سکتی ہے کہ اس کی جائیداد واپس نہ کی جائے اور اسے کہا جائے کہ