تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 295
۲۹۵ مستند مأخذ سمجھی جاتی ہیں۔آپ نے قرآن مجید کا اردو اور مہندی میں بھی ترجمہ کیا جو مقبول عام ہوا۔آپ نے اپنی زندگی میں بیسیوں اخبار و رسائل کی ادارت کی۔اخبار منادی " آخر وقت تک مرتب کرتے رہے۔آپ کا روز نامچہ انتہائی دلچسپی سے پڑھا جاتا تھا۔آپ کے مریدوں کا حلقہ بڑا وسین تھا۔نہایت مرنجان مرنج اور ہرقسم کے تعصب سے پاک طبیعت رکھتے تھے۔جس امر کو حق سمجھتے اس کا بر ملا اظہار کر دیتے تھے۔باوجود اختلاف مسلک کے عمر بھر جماعت احمدیہ سے آپ کے مراسم در روابط نہایت درجہ گہرے ر ہے۔ان تعلقات کا آغاز شاہ سے ہوا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو اپنے علم مبارک سے ایک خط لکھا کہ ہر " ہم نے آپ کی صحت کے لئے خدا سے دعا مانگی اور ہم کو الہام ہوا کہ خواجہ حسن نظامی ابھی بہت دن زندہ رہیں گے اور مسلمانوں کے بڑے بڑے کام کریں گے !" آپ نے یہ خط اپنے اخبار منادی بابت ماہ تعمیر شاه سیناء میں شائع کر دیا تھا حضرت میں مولود علیه السلام اکتوبر 19ء میں آخری بار دتی تشریف لے گئے اور دوسرے اکابر امت کے علاوہ حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار مبارک پر بھی دعا کی۔اس موقع پر خواجہ حسن نظامی صاحب نے نہایت محبت و خلوص کا ثبوت دیا۔حضرت اقدس اور آپ کے خدام کو اپنے خاص حجرے میں لے گئے۔ایک کتاب خوان نظامی ہدیہ پیش کی۔اور پہلے زبانی اور بعد کو تحریری درخواست کی کہ حضور انہیں کوئی تحریری عطا فرمائیں حضرت اقدس نے واپسی پر ۱۳/ نومبر نشاء کو تبرکا ایک مبارک تحریر بھجوائی جو اخبار بدر قادریان ۲۳ تومیر صفحه ے اخبار نوائے وقت" ۳ اگست ۱۹۵۵ء له روزنامه الفضل اور اکتوبر ۵ امت میاں عبدالوہاب صاحب عمر کا بیان ہے کہ :۔سکول کی طالب علمی کے زمانہ میں نہیں نے آپ کو ایک خط لکھا۔ہواپسی جواب آیا۔" مجھے ایک دفعہ درق ہو گئی تھی تو حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کو میں نے دعا کے لئے لکھا۔آپ نے مجھے جواب دیا کہ آپ اس مرض سے قوت نہیں ہوں گے۔اور ساتھ ہی مولانا حکیم نور الدین کو لکھا کہ حسن نظامی کے لئے دوا تیار کر کے بھیجو۔چنانچہ مجھے اس مرض سے شفا حاصل ہو گئی : (روز نامه الفضل ۱۲ اکتوبر ۱۸۵ء ص ) سے متن کے لئے دیکھیں تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ ۴۳۹م حاشیہ