تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 292 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 292

۲۹۲ حکومت ہندوستان نے ایک طویل کشمکش کے بعد بالآخر قادیان کے احمدی اور شہرنا تھی یہ فیصلہ دیا کہ صدر انجین احمدیہ قادیان کی جائیداد کو واپس کیا جائے۔اس فیصلہ پر قادیان کی شہرنا تھی سیوک سبھا نے احتجاج کیا اور مہندوستان کی مرکزی حکومت کو ایک میموریل بھیجا۔جس کی ایک نقل دہلی کے ایک مشہور اخبار ریاست کو بھی ارسال کی۔یہ اخبار سردار دیوان سنگھ مفتون کی ادارت میں شائع ہوتا تھا۔اخبار ریاست نے اس میموریل پر قادیان کے احمدی اور شہر نارتھی “ کے عنوان پر حسب ذیل تنذراہ لکھا :- " پر شار تھی سیوک سبھا قادیان (گورداسپور ) نے اس میموریل کی ایک نقل اشاعت کے لئے دفتر له صدر انجمن احمدیہ قادیان" ایک مذہبی ادارہ ہے جو سائپسٹر ایکٹ آف شاہ کے تحت شاہ سے چرڈ شدہ ہے اور اپنے بائی لاز کے مطابق مسلسل کام کر رہا ہے بعض لوگوں نے یہ غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی کہ انجین احمدیہ کے صدر احمدیوں کے خلیفہ ہیں جن کے پاکستان چلے جانے کے بعد یہ انجمن خود بخود EVACUEE ہو جاتی ہے۔حالانکہ صدر امین احمدیہ قادیان کے الفاظ میں صدر کا لفظ پریزیڈنٹ کے مفہوم کے لئے کبھی استعمال نہیں ہوا بلکہ اس کے معنے ہمیشہ مرکزی انجمن احمدیہ قادیان کے لئے گئے ہیں۔اس نوع کی بے بنیاد باتوں اور مغالطہ انگیزیوں کے نتیجہ میں محکمہ کسٹوڈین نے شروع ۱۹۵۷ء میں انجمن کے خلاف نوٹس جاری کر دیا۔یہ تقدیر دو سال تک جاری رہا اور ضلع گورداسپور کے اسسٹنٹ کسٹوڈین سے لے کہ ہندوستان کے کسٹوڈیو جنرل تک پہنچا اور با تاخہ یہ فیصلہ ہوا کہ صدر انجمن احمدیہ قادیان پناه گزین EVACUEE نہیں ہے۔اس لئے اس کے خلاف مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔اور بینکوں میں ٹکی ہوئی رقم واپس کی گئی۔اس فیصلے پر صدر انجمن احمدیہ قادیان کی طرف سے کسٹوڈین صاحب کی خدمت میں انجمن کی جائیدادوں کی فہرست پیش کی گئی۔اس فہرست میں قادیان کے قریباً چالیں مکانات بشمول تعلیم الاسلام کا لج دو سکول اور ہسپتال بھی تھے۔اور سفید زمین کے چند پلاٹ بھی۔چونکہ اس جائیداد پر تقسیم کے بعد بعض ادارے یا شرنا تھی قابض ہو گئے تھے۔اس لئے ان میں تشویش پیدا ہونا قدرتی امر تھا۔شیخ عبد الحمید صاحب عاجز ناطر امور او خارجہ قادیان نے بدر در اپریل ۱۹۵۵ء میں یہ ساری تفصیلات بیان فرمانے کے بعد قادیان کی پر شار تھی سیوک سبھا کو توجہ دلائی کہ وہ اس سلسلہ میں معقول آئینی اور پر امن طریق اختیار کرے۔