تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 271
۲۷۱ کے افریقین مبلغین میں سے سوائے چند کے دیگر تمام ہی میشتر صاحب کے ذریعہ ترجمیت یافتہ ہیں۔چنانچہ مولوی صاحب اور ان افریقن مبلغین کی مساعی سے اس ملک کے مشرق و مغرب اور شمال و جنوب میں احمدیت کا بیج بویا گیا اور متعد د جماعتیں قائم ہوئیں۔م - جناب صوفی مطیع الرحمن حصان بنگالی ایم اے مبلغ امریکہ گی کے مبلغ امریکہ جناب صوفی مطیع الرحمن صاحب کا آبائی گاؤں" کا مائیٹ ہے۔یہ گاؤں احمدیت کے قدیم بنگالی مرکز بر مین بڑیا شہر سے تقریباً تین چار میل کے فاصلے پر ہے۔یہ وہی تاریخی شہر ہے جہاں حضرت مولوی سید عبد الواحد صاحب (ولادت ۱۸۵۳ ء وفات ۱۹۲۶) نے ۱۹۱۳ء میں داخل احمدیت ہونے کے بعد احمدیت کی اس زور شور سے تبلیغ کی کہ ۱۹۲۷ء تک ڈیڑھ ہزارہ سے بھی زیادہ نفوس حلقہ بگوش احمدیت ہوئے۔صوتی صاحب اس علاقہ کے ایک ممتاز علم دوست خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور آپکے والد ماجد قاری نعیم الدین صاحب بھی ایک بلند پایہ عالم ، ہر دلعزیز واعظ اور خوش الحان قاری تھے جن کے چار بیٹے تھے۔(۱) مولوی بدل الرحمن صاحب - (۲) مولوی ظل الرحمن صاحبت - (۳) مولوی مطیع الرحمن صاحب - (۴) مولوی محب الرحمن صاحب۔یہ چاروں بھائی سلسلہ احمدیہ کے خدائی اور شیدائی تھے۔اور انہوں نے اپنی پوری زندگی سلسلہ احمدیہ کی خدمت میں گزاری ھونی مطیع الرحمن صاحب شہاد میں پیدا ہوئے۔آپ اگرچہ اپنے بھائیوں میں سے تیسرے نمبر پر تھے مگر جہاں تک قبول احدیت کا تعلق ہے پورے خاندان میں یہ نعمت اول نمبر پر آپ ہی نے حاصل کی۔اس وقت آپ کی عمر قریبا پندرہ سال کی ہوگی۔یہ زمانہ جماعت احمدیہ کے لئے اپنوں اور بیگانوں کی مزاحمت کے اعتبار سے بڑی پریشانی کا زمانہ تھا اور خلافت ثانیہ کا ابتدائی دور تھا اور آپ ابھی طالب علم تھے۔احمدیت کی پاداش میں آپ کو گھر سے نکال دیا گیا۔آپ قادیان تشریف لے آئے۔اس وقت ” له تابعین اصحاب احمد جلد چہارم مولفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اسے صفحہ ۲۵۱ ۲۵۲ سے والد ماجد مکرم جناب مجیب الرحمن صاحب ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان و امیر جماعت احمد یہ راولپنڈی