تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 270 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 270

لیکن آپ کی یہ نصیحت دل پر ایک نقش چھوڑ گئی ہے " جناب مولوی عطاء اللہ صاحب کنیم رسابق مبلغ غانا و انچار ج احمدیہ مشن امریکہ ) کا بیان ہے : ئیں نے مولوی نذیر احمد علی صاحب کو غانا میں کام کرتے نہیں دیکھا۔نانا میں فروری ۱۹۵۷ء میں میری آمد سے چند ماہ قبل آپ پاکستان جا چکے تھے۔لیکن جن مبلغین اور احباب جماعت سے آپ کے متعلق تذکرہ ہوا۔ہر ایک کو آپ کے تبلیغی جنون کی تعریف میں رطب اللسان پایا۔آپ عالم شباب میں ن ممالک میں تشریف لائے اور اعلائے کلمتہ اللہ میں اپنا شباب اور اپنی صحت قربان کر دی اور اسی فریضہ کی ادائیگی میں جام شہادت نوش فرمایا۔جنون تبلیغ کے لحاظ سے یقیناً آپ حضرت مصلح موعود کے اس شعر کے مطلوب دیوانہ تھے سے عاقل کا یہاں پر کام نہیں وہ لاکھوں بھی بے فائدہ ہیں مقصود مرا پورا ہو اگر مل جائیں مجھے دیوانے دو جہاد کبیر میں آپ کو نہ بخار کی پرواہ تھی نہ کسی بیماری کی۔چونکہ تبلیغ کا خود جنون تھا۔اس لئے وہ ماتحت کام کرنے والے مبلغین اور دیگر افراد کو بھی اسی رنگ میں رنگیں دیکھتا اور کرنا چاہتے تھے۔تھے۔اور خواہاں تھے کہ سالوں کا کام مہینوں بلکہ مفتوں میں تکمیل پذیر ہو سکے۔اور اس تیز رفتاری پر کسی کو شکوہ ہو تو اس کی چنداں پرواہ نہیں کرتے تھے متعدد بار ایسا ہوتا کہ شدت مرض کے باعث آپ تقریر نہیں کہ سکتے تھے تو آپ تبلیغی جلسہ میں محض شرکت کہ لیتے تا ثواب حاصل کر سکیں۔میں نے وراٹا ریجن کے سوا قریباً ہر ریجن (علاقہ) میں کام کیا ہے۔اور مختلف مقامات میں جاتے کی کوشش کی ہے۔وہ علاقے جہاں اب سٹرکیں بن چکی ہیں۔پہلے گھنے جنگل اور دشوار گزار راستوں سے وہاں جانا پڑتا تھا۔آپ اُس عہد میں بھی وہاں پہنچے۔دوسری بار آپ تشریف لائے تو اسی تبلیغی جنون کے صدقے اپنے ساتھ الحاج مولوی نذیر احمد صاحب بیشتر فاضل کو لائے تاکہ ان کے ذریعہ مقامی یعنی افریقن مبلغین تیار کرکے تبلیغ کی توسیع کی جائے اور بفضلہ تعالی آپ کی یہ سکیم بہت کامیاب ہوئی اور آج کل نا بعين ابعین اصحاب احمد جلد چهارم مؤسفہ ملک صلاح الدین صاحب ایم۔اے صفحہ ۲۶۴ ، ۲۶۵۔