تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 269 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 269

۲۶۹ جناب مولوی نور محمد نیم سیفی صاحب سابق رئیس التبلیغ مغربی افریقہ تحریر فرماتے ہیں :- " آپ ان تھک کام کرنے والوں میں سے تھے۔اور چاہتے تھے کہ اپنے ارد گرد کے تمام احباب کو ہر وقت کام ہی کرتے دیکھیں۔ایک دفعہ ایک مبلغ کی ڈائری پڑھے کہ آپ کو احساس ہوا کہ ضرورت سے کم کام کیا گیا ہے۔چنانچہ آپ نے ایک پروگرام بنا کہ واپسی ڈاک سے مجھے ارسال کر دیا کہ ان مبلغ صاحب سے اس پر عمل کروایا جائے۔یہ پروگرام تہجد سے لے کر رات کے تو دس بجے تک کے لئے تھا۔اور اس دوران میں ورزش، نمازیں ، تلاوت قرآن کریم ، ناشتہ اور کھانا، تبلیغ اور آرام و غیر یا ہر قسم کی باتیں درج تھیں۔اس پروگرام کو دیکھ کر مجھے اس بات کا شدید احساس ہوا کہ آپ کو نہ صرف کام کی فکر مفتی بلکہ کام کرنے والوں کی صحت کا بھی از مد خیال تھا۔اپنے ماتحتوں کی عزت افزائی اور ان کے کام کو زیادہ سے زیادہ اچھا رنگ دے کر اُجاگر کرنے کی آپ کو ہمیشہ فکر رہتی تھی۔اس سلسلہ میں آپ نے مجھے بھی اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ میں اپنے ساتھیوں سے مضامین لکھوا کر ان کی درستی کر کے اخبارات میں شائع کروایا کروں۔آپ کی اس خواہش کے پیچھے یہ جذبہ کار فرما تھا کہ ہمیشہ اپنے جانشین پیدا کرنے کی فکر میں رہنا چاہئیے۔آخر انسانی زندگی کا کیا بھروسہ ہے ؟ کون جانے اُسے کب پیام اصیل آجائے لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ کسی ایک آدمی کے چلے جانے سے کام کے میدان میں خلا پیدا ہو جائے۔جب نہیں نے حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کی وفات پر ایک پمفلٹ شائع کیا تو آپ نے ایک نہایت ہی پیارا دیباچہ لکھا جس میں حضرت نیر صاحب کی بعض نمایاں خوبیوں کا ذکر کمر کے اس بات کی خواہش کی کہ ہمیں بھی وہ خوبیاں اپنے اندر پیدا کرنی چاہیں اور ان خوبیوں کو ایک دائمی تسلسل حاصل ہو جانا چاہیئے۔آپ کی خاص خاص خوبیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ آپ تبلیغ کے سلسلہ میں جماعت پر کم سے کم یو تجھ ڈالنا چاہتے تھے اور اپنے ساتھ کام کرنے والے مبلغین کو ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے رہتے تھے۔چنانچہ ایک وفعہ نائیجیریا مشن کو کچھ ملی مشکلات پیش آئیں تو آپ نے جو اس وقت ہمارے رئیس تبلیغ تھے۔مجھے لکھا کہ میں اپنے ساتھ کام کرنے والے مبلغین سے کہوں کہ وہ پھیری لگا کہ کپڑا بیچ لیا کریں اور یکی خود لیگوس میں ایک دو ٹیوشنیں لے لوں تاکہ اس آمد سے ہم اپنا خرچ بھی برداشت کم سکیں اور مشن کی مزیدہ مدد بھی کر سکیں۔اگر چہ حالات جلد ہی بدل گئے اور مشن کو مالی آسانی میسر آگئی