تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 266 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 266

۲۶۶ طرف سے یہی مطالبہ ہو گا کہ اپنے بچوں کو ایسے رنگ میں ٹریننگ دیں کہ جس مقصد کے لئے ہماری جانیں صرف ہوئیں اُسے وہ پورا کہ میں ہے اس دفعہ آپ کے ہمراہ تین اور مجاہد بھی تھے۔یہ وفد ۲۶ فروری ۱۴۷ء کو فری ٹاؤن پہنچ گیا۔مولانا نذیر احمد علی صاحب دوسرے مبلغین احمدیت کو سیرالیون میں متعین کرکے خود پورے مغربی افریقہ کی تبلیغی مہمات کا جائزہ لینے کے لئے 19 ستمبر ۱۹۴۶ء کو گولڈ کوسٹ تشریف لے گئے۔اور اہم خدمات بجالانے کے بعد اپریل انشاء میں ربوہ واپس تشریف لائے اور کچھ عرصہ نہایت محنت ، فرض شناسی۔اور عرق ریزی کے ساتھ جامعہ المبشترین ربوہ میں پروفیسر کے فرائض سرانجام دینے کے بعد آخری بار اپریل 19ء کو ربوہ سے سیرالیون پہنچے اور ایک لمبی علالت کے بعد سیرالیون کے شہر " بو میں اسٹی ۱۹۵۵ء کو انتقال کر گئے۔بنا کردند خوش رسمے نجاک و خون غلطیدن و خدا رحمت کنند این عاشقان پاک طینت را آپ سلسلہ احمدیہ کے چھٹے جا نثار مجاہد اور مبلغ تھے جنہوں نے ( بعہد خلافت ثانیہ ممالک غیر میں فریضہ تبلیغ بجالاتے ہوئے اپنی جان جان آفرین کے سپرد کی پہلے پانچ جانثار مبلغ یہ ہیں :- - حضرت حافظ عبید اللہ صاحب ماریشس (بار دسمبر ۱۹۲۳ء) ۲ حضرت شاہزادہ عبد المجید صاحب ایران ( ۲۲ ) فروری ۱۲۵ ه ) - مولوی محمد دین صاحب سابق مبلغ البانیہ آپ بذریعہ بحری جہاز مشرقی افریقہ تشریف لے جا رہے تھے کہ آپ کا جہانہ ڈوب گیا۔( ۲۲ نومبر ۱۹۳۷ الی م مرزا منور احمد صاحب مبلغ امریکہ (۵) ۱ ستمبر ۱۹۳۵ (۶) -۵ حافظ جمال احمد صاحب روز بل ماریشس (۲۷ ستمبر ۱۹۲۹ ) مولانا نذیر احد علی صاحب کا مزارہ سیرالیون کے شہر یوں کے ایک نہایت پر فضا جگہ پر واقع ہے۔الفضل ٣٠ ، نومبر ١٩٣٥ء من (قادیان) له الفضل ۲۵ دسمبر ۶۱۹۵۵ سرورق ۲۰ کے مزید تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ احمدیت جلد ۵، ۸ دحالات غانا و سیرالیون مشن تابعین اصنی احمد جلد چهارم مولفه جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے ناشر احمد یہ بیڈ پو ر ہوہ پاکستان طبع اول دسمبر تار انفصال، خون شهداء منه و تجهیز و تکفین کی تفصیل از قلم مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری انچا ر با سیرالیون مشن ) واتین