تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 267
اس جانثار مجاہد کی یہ امتیازی شان ہے کہ سید نا حضرت خلیفة السيح الثالث رحمتہ اللہ تعالیٰ پہلے سفر مغربی افریقہ کے دوران اور مٹی نشا کو آپ کے مزار پر دعا کے لئے تشریف لے گئے حضور کے ہمراہ حضرت شیده منصوره بیگم صاحبه ، صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشير مولوی محمدصدیق صاحب گورداسپوری امیر جماعت ہائے احمد یہ سیرالیون اور دیگر احباب جماعت بھی تھے۔دعا کے وقت کا منظر نہایت ہی رقت آمیز تھا۔ہر آنکھ اشکبار تھی بیہ مولوی نذیر احمد علی صاحب احمدیت کے ایک انتشار پیشہ ، جا نفروش اور مثالی مبلغ تھے اور آپ نے جس والہانہ انداز ، جذبہ فدائیت اور روح اخلاص کے ساتھ مجاہرانہ خدمات سرانجام دیں اُس کے نقوش اہل افریقہ اور مبلغین افریقہ کے قلوب پر ہمیشہ قائم رہیں گے۔بالخصوص وہ مجاہدین احمدیت جنہیں آپ کی قیادت و رفاقت میں افریقہ میں اعلائے کلمہ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی مولوی محمد صدیق صاحب امرتسری کو سالہا سال تک آپ کی معیت میں کام کرنے کا موقع ملا۔آپ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں :- 14 یکیں مارچ ۱۹۴۰ء میں سیرالیون بھجوایا گیا اور امر کے آخر تک میں آپ کے ساتھ رہا۔اس " قریباً چار سال کی مدت میں سفر و حضر میں آپ کو نہایت قریب سے دیکھنے اور آپ کی سیرۃ کا گہرا مطالعہ کرنے کا میں نے موقع پایا۔آپ کا سلوک مرتبیانہ اور برادرانہ پایا۔اور مجھے کبھی کوئی شکوہ پیدا نہیں ہوا۔آپ جو بھی کام سپرد کرتے اس میں خود بھی حصہ لیتے تھے۔ابتداء میں آپ میری پوری رہنمائی اور تربیت و اصلاح فرماتے رہے تا کہ آزادانہ طور پر کام سنبھالنے کے قابل ہو سکوں تبلیغی جوش ، سلسلہ کے لئے قربانی ، ایثار، صبر و استقلال، غیرت دینی، خدا پرستی، تو کل اور تقوی وطہارت کے لحاظ سے آپ اُسوہ تھے۔باقاعدہ تہجد گزار تھے کبھی نماز اشراق بھی ادا کرتے تھے سفر و حضر میں صبح کے وقت بلا ناغه تلاوت قرآن مجید کرتے تھے۔تلاوت نہایت بلند آواز سے خوش الحانی سے کرتے تھے۔فراتے تھے بقیه حاشیه صفحه گذشته الفضل ۱۲ اکتو بر شکار حد امضمون مولانا نذیر احمد صاحب منتشر ۱۵ ستمبر امت امضمون شیخ نور احمد صاحب منیر میشر بلا و اسلامیہ مقیم بیروت ) له الفضل ۵ ارجون شاه ۶۱۵