تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 265 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 265

۲۶۵ حکیم صاحب مرحوم ایک باہمت اور نہایت مخلص اور صابر و شاکر اور خدمت سلسلہ میں بشاشت اور خوشی کے ساتھ حصہ لینے والے کارکن تھے۔ان کی اہلیہ بھی ایک صابرہ اور شاکرہ خاتون ہیں ؟ - الحاج مولانا نذیر احمد علی صاحب رئيس التبليغ مغربی افریقہ الحاج مولوی نذیر احمدعلی صاحب حضرت بالا تیری ماتا کے فرزند تھے۔ار فروری شیر کو پیدا ہوئے آپ پہلی مرتبہ ۲۲ فروری شیر کو گولڈ کوسٹ رمغربی افریقہ) تبلیغ اسلام کے لئے بھجوائے گئے جہاں مسلسل پانچ سال تک تبلیغی جہاد میں مصروف رہے اور ۱۵ رمٹی ۱۹۳۳ء کو قادیان تشریف لائے۔ازاں بعد یکم فروری ۱۹۳۶ء کو دوبارہ گولڈ کوسٹ تشریف لے گئے۔ڈیٹھ سال بعد حضرت مصلح موعود کی ہدایات کے مطابق آپ سیرالیون میں نے مشن کی بنیاد کے لئے۔ا ر اکتوبر ۹۳ یہ کو گولڈ کوسٹ سے روانہ ہو کر ۱۳ اکتوبر ۱۹۳۶ کو سیرالیون کے دارالحکومت فری ٹاؤن پہنچے۔سیرالیون میں آپ نے مسلسل آٹھ سال تک شاندار تبلیغی خدمات سر انجام دیں۔اور با وجود شدید مخالفت کے احمدی جماعتوں میں غیر معمولی توتی ہوئی۔یہی وجہ ہے کہ ۱۲ فروری ۱۹۲۵ء کو آپ قادیان تشریف لائے تو حضرت مصلح موعود نے آپ کی سرفروشانہ اور مجاہدانہ خدمات پر خمار تحسین ادا کرتے ہوئے آپ کو ایک محلیس عرفان میں کامیاب جو نیل" کے خطاب سے نوازد۔اور جب آپ ۲۶ نومبر ۱۹۳۵ء کو عازم مغربی افریقہ موئے تو حضور نے آپ کو مغربی افریقہ کا رئیس التبلیغ نامزد کیا اور اعلان فرمایا کہ آئندہ آپ کا نام مولوی نذیر احمد علی ہو گا۔آپ نے قادیان سے روانگی سے قبل ایک الوداعی تقریب میں فرمایا۔" آج ہم خدا تعالیٰ کے لئے جہاد کرنے اور اسلام کو مغربی افریقہ میں پھیلانے کے لئے جارہے ہیں۔موت فوت انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ہم میں سے اگر کوئی فوت ہو جائے۔تو آپ لوگ یہ سمجھیں کہ دنیا کا کوئی دور دراز حقہ ہے۔جہاں تھوڑی سی زمین احمدیت کی ملکیت ہے۔احمدی نوجوانوں کا فرض ہے کہ اس تک پہنچیں اور اس مقصد کو پورا کریں جسکی خاطر اس زمین پر ہم نے قبروں کی شکل میں قبضہ کیا ہو گا۔پس ہماری قبروں کی ه روزنامه الفضل ربوده ۲۹ اگست شک دارد۔سه روز نامه الفضل ۲۲ فروری ۱۹۵۵ رد صدا