تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 264 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 264

P45 وہ اسلام کی دیوار کو گھر اسکے۔پھر خدا نے اس عمارت کی صرف مرحمت ہی نہیں کی بلکہ ایک نئی فوج بھی تیار کر دی جو قلعہ کی حفاظت کے لئے اس کے سامنے کھڑی ہے۔اب دشمن کی مجال نہیں کہ وہ اس قلعہ کی طرف بڑھے اور اس پر حملہ کر سکے، کیونکہ اس قلعہ کے محافظین کے دلوں میں خدا اور اس کے رسول کی محبت ہے وہ اس کی رضا کے لئے اپنے وطنوں کو چھوڑتے ہیں۔اور غیر ملکوں میں سالہا سال تک کہ کہ دین کی اشاعت کے لئے جد و جہد کرتے ہیں۔ہمارے مبلغین میں ایسی کئی مثالیں پائی جاتی ہیں کہ انہوں نے اسلام کی اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کی اور شادی کے چند مہفتوں بعد ہی غیر ممالک میں چلے گئے۔چونکہ میاں بیوی اگر ایک رات بھی اکٹھے رہیں تو بعض دفعہ حمل ہو جاتا ہے۔اس لئے ان کے مجھے ہی بچے پیدا ہوئے اور وہ سالہا سال تک اپنے باپ کی شکل تک دیکھنے کو تو سنتے رہے۔ایک مبلغ جو شادی کے معا بعد تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے تھے۔ان کا بچہ ان کے جانے کے بعد پیدا ہوا اور پھر بڑے ہو کر سکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا جب وہ دس سال کا تھا تو ایک دن وہ سکول سے اپنے گھر آیا اور اپنی ماں سے کہنے لگا کہ اماں لڑکے جب سکول میں آتے ہیں تو کہتے ہیں۔ہمارا ایا W یہ لایا۔ہمارا ایا وہ لایا میرا بھی کوئی آتا ہے یا نہیں ؟ " اسی طرح حکیم فضل الرحمن صاحب جو حال ہی میں میرے پیچھے فوت ہوئے ہیں وہ شادی کے تھوڑا عرصہ بعد ہی مغربی افریقہ میں تبلیغ اسلام کے لئے چلے گئے اور تیرہ چودہ سال تک باہر رہے۔جب وہ واپس آئے تو اُن کی بیوی کے بال سفید ہو چکے تھے اور ان کے بچے جوان ہو چکے تھے ؟ اسی طرح حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا کہ در حكيم فضل الرحمن صاحب ایک نہایت مخلص کارکن تھے جنہوں نے اپنے آپ کو مین تو جوانی میں سلسلہ کی خدمت کے لئے وقف کیا اور پھر تقریباً تیس سال مغربی افریقہ کے مختلف کے علاقوں میں فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے اور ملکی تقسیم کے بعد واپس آکر افسر لنگر خانہ کے اہم عہدہ پر مقرر ہوئے۔له خالد احمد بیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کی طرف اشارہ ہے دال زیار لذوات الخمار حصہ دوم کا طبع دوم نا شر لجنہ اماء الله مرکز به درکوه - تقاریر حضرت مصلح موعود ) سے روزنامه الفضل ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۶ء ص۳