تاریخ احمدیت (جلد 17)

by Other Authors

Page 263 of 578

تاریخ احمدیت (جلد 17) — Page 263

۲۶۳ متواتر اصرار اور مشورہ پر جولائی ۱۹۵۵ء میں باقاعدہ علاج کے لئے لاہور گئے مگر بیماری آخری درجہ تک پہنچ چکی تھی کوئی دوا کارگر نہ ہوئی۔آخر ۲۸ اگست ۹۵۵ ایء کو نمبر ۵۹ سال خالق حقیقی کا بلا و یا آگیا۔اور آپ ہمیشہ کے لئے مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَہ کے آسمانی گروہ میں شامل ہو گئے۔اخبار الفضل نے آپ کی وفات پر حسب ذیل خبر شائع کی :- " ربوہ ۲۹ اگست - گہرے رنج و افسوس کے ساتھ یہ اطلاع احباب تک پہنچائی جاتی ہے کہ مکرم و محترم جناب حکیم فضل الرحمن صاحب کل دوپہر کو لاہور میں انتقال فرما گئے اور اس طرح تبلیغ کے میدان کا ایک نہایت کامیاب اور بہادر سپاہی اور احمدیت کا ایک سچا اور مخلص فرزند ہم سے جدا ہوگیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ محترم حکیم صاحب نے ہر برس کے طویل عرصہ تک مغربی افریقہ میں میں کامیابی کے ساتھ ملا کلمہ الحق کا فریقیہ ادا کیا اور محض تبلیغ اسلام کی خاطر اپنے وطن اپنے اہل و عیال اور اپنے دیگر عزیزوں سے قریباً ایک ربع صدی تک جدائی برداشت کرتے ہوئے جس غیر معمولی قربانی اور ایثار کا ثبوت دیا اس کی بناء پر آپ کا نام یقینا۔۔۔۔سلسلہ احمدیہ کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ وتابندہ رہے گا۔اور آنے والی نسلوں کے لئے راہنمائی کا کام دے گا۔" شید تا حضرت خلیفہ المسح الثاني المصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے خطبہ جمعہ ۲۳ ستمبر ا ء میں آپ کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا :- خدا تعالیٰ نے اسلام کی اس عظیم الشان عمارت کی مرقمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کو مبعوث فرمایا اور آپ کو اس قلعہ کا پاسیان مضر فرمایا تا کہ اسلام کی یہ گرتی ہوئی عمارت پھر اپنی بنیادوں پر استوار ہو جائے اور دشمن کے حملے ناکام ہو جائیں۔چنانچہ آپ آئے اور آپ نے نئے سرے سے اس عمارت کے فرش اور دیواروں پر سیمینٹ کر دیا۔اس کے اندر دوبارہ سفیدی کر دی۔اس کے تمام سوراخ بند کر دیئے۔اور اُسے پھر ایک مضبوط قلعہ کی شکل میں تبدیل کر دیا۔آپ کسی کی طاقت نہیں کہ الفضل ۳۰ اگست ۹۵۵اء ما الفضل ۱۴۳ اکتوبر ۹۵ من (مضمون مولانا نذیراحمد صاحب بیشر اینجات مشنری گولڈ کوسٹ (غانا) له الفضل ۲۹ اگست ۱۹۵۵ء